خطبات محمود (جلد 29) — Page 452
$1948 452 خطبات محمود مقابلہ میں حاصل ہوتی ہے۔مکھی انسان کے مقابلہ میں حیثیت رکھتی ہے مگر انسان کی خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کچھ بھی تو حیثیت نہیں۔وہ تو اس دنیا کے مقابلہ میں بھی کچھ حیثیت نہیں رکھتا جس کو خدا تعالیٰ نے گن کے لفظ سے پیدا کیا ہے۔پھر وہ اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہتا ہے مگر بندہ السَّلَامُ عَلَيْكُم تو الگ رہا اُس کے جواب میں وَعَلَيْكُمُ السَّلام بھی نہیں کہتا۔بلکہ بسا اوقات وہ خدا تعالیٰ کا سلام سن کر تنتظر سے منہ پھیر لیتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَالَ الرَّسُوْلُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا - 2 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے حضور میں کھڑے ہو کر قیامت کے دن کہیں گے کہ اے میرے خدا! افسوس ہے میری قوم پر جن کو میں نے تیرا اسلام دیا، تیرا پیام دیا مگر بجائے اس کے کہ وہ تیرے سلام اور پیام کوسن کر شادی مرگ ہو جاتے ، بجائے اس کے کہ وہ اسے سن کر مرعوب ہو جاتے ، بجائے اس کے کہ وہ اسے سن کر ممنون ہوتے ، بجائے اس کے کہ سے سن کر ان کے جسم کا ہر ذرہ اور ان کے دل کی ہر ہر تار کانپنے لگ جاتی ، بجائے اس کے کہ انسان اس سلام کے جواب میں شکریہ کا پیام دیتا اور اپنی عقیدت کا اظہار کرتا اس نے کیا کیا؟ اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا۔انہوں نے تیرے سلام اور تیرے پیام کو اپنی پیٹھوں کی طرف پھینک دیا اور کہا دُور ہو جا ہم تیری پروا نہیں کرتے۔ہمیشہ سے دنیا یہی کرتی چلی آئی ہے مگر وہ دنیا جو یہ جانتی نہیں کہ خدا تعالیٰ کیا ہے اُس کا رسول کیا ہے۔وہ جو کرتی ہے اسے کرنے دو۔میں مومن سے پوچھتا ہوں جو کہتا ہے کہ خدا ہے، جو جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کی کیا حیثیت ہوتی ہے، جو سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا بندے کو مخاطب کرنا خواہ وہ بالواسطہ ہو یا بلا واسطہ ایک عظیم الشان انعام ہے۔میں اُس سے پوچھتا ہوں کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے کلام کوسنتا ہے اور پھر اس کا جواب نہیں دیتا۔قرآن کریم کہتا ہے کہ قرآن فرشتوں کے ذریعہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا کرتا تھا تو کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے اس کی نَعُوذُ بالله بے ادبی کرتے تھے کہ یہ فرشتوں کے ذریعہ سے کیوں نازل ہوا ہے؟ خدا تعالیٰ نے بلا واسطہ قرآن کریم کیوں نازل نہیں کیا ؟ اگر قرآن کریم کو بالواسطہ نازل کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوتا تو آپ کو بھی قرآن کریم پھینک دینا چاہیے تھا۔لیکن جب تم سنتے ہو یا پڑھتے ہو کہ خدا تعالیٰ نے آپ پر قرآن کریم فرشتوں کے ذریعہ سے نازل کیا ہے تو تمہارے نزدیک قرآن کریم کی