خطبات محمود (جلد 29) — Page 450
$1948 450 خطبات محمود کے لیے متواتر کوششوں کے بعد بھی انسان دریافت نہ کر سکا بلکہ بجائے معلوم کرنے کے وہ حیرت میں بڑھتا گیا۔اس دنیا کے متعلق جس کی لمبائی اور چوڑائی کو سینکڑوں اور ہزاروں سال کی کوششوں کے بعد بھی انسان معلوم نہ کر سکا۔قرآن کریم کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تین کہا اور وہ پیدا ہوگئی۔اور یہ صرف ایک دفعہ ہی نہیں بلکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ ہمیشہ کُن کہتا ہے " فَيَكُونُ 1 " اور نئی دنیا پیدا ہوتی رہتی ہے۔یہ " فَيَكُونُ" کی جو حالت ہے اس کو بھی سائنس نے ثابت کیا ہے۔جنگ کے بعد دنیا کے پھیلاؤ کے اندازے لگائے گئے لیکن وہ غلط ثابت ہوئے اور یہ خیال کیا گیا کہ یہ اندازے ہی غلط لگائے گئے تھے۔پھر دوبارہ اندازے لگائے گئے مگر وہ بھی غلط ثابت ہوئے۔تب معلوم ہوا کہ یہ اندازے غلط نہیں لگائے تھے بلکہ دنیا برابر پھیل رہی ہے اور جب بھی اس کے پھیلاؤ کا اندازہ لگایا جاتا ہے پہلے سے اس کا پھیلا ؤ زیادہ معلوم ہوتا ہے۔قریب کے زمانہ کی بات ہے کہ یہ بات معلوم ہوئی کہ نہ صرف دنیا پھیل رہی ہے بلکہ اس کے پھیلنے کی رفتار تیز ہورہی ہے گویا ساری کوششیں جو ماضی میں اس کے پھیلاؤ کو معلوم کرنے کے لیے کی گئی تھیں رائیگاں گئیں۔اس ساری دنیا کے مقابلہ میں زمین کی حیثیت اتنی بھی نہیں جتنی حیثیت ایک چیونٹی یاجوں کو زمین کے مقابلہ میں ہوتی ہے۔ایک چیونٹی یاجوں کو زمین کے مقابلہ میں جو نسبت ہوتی ہے اس سے بھی کم اس دنیا کو عالم وجود سے نسبت ہے۔اس کے مقابلہ میں انسان کی حیثیت تو ظاہر ہے۔انسان اپنی مجبوریوں کی وجہ سے اور اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے کتنا مجبور ہے۔جسمانی بناوٹ کے لحاظ سے اور دماغی کیفیات کے لحاظ سے جب ہم انسان کو دیکھتے ہیں اور پھر اس بات کو دیکھتے ہیں کہ انسان کی دنیا کے مقابلہ میں کیا حیثیت ہے اور ہماری دنیا کی سارے عالم کے مقابلہ میں کیا حیثیت ہے۔اور پھر اس عالم کی اگلے اور پچھلے عالموں کے مقابلہ میں کیا حیثیت ہے۔اور جب ہم ساتھ یہ یکھتے ہیں کہ ان سب عالموں کو خدا تعالیٰ نے ایک لفظ کن سے پیدا کر دیا تو پھر خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں انسان کی حیثیت کا اندازہ لگانے کی کوشش کرنا بالکل مضحکہ خیز ہو جاتا ہے۔جتنا ہم علم میں بڑھتے جاتے ہیں اور پھر دنیا کا اندازہ لگاتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا مادی نہیں روحانی ہے۔جب انسان اپنی پوری طاقتوں اور قوتوں کا اندازہ لگا کر یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ دنیا کتنی بڑی ہے؟ تو دنیا اور پھیل جاتی ہے۔یا یوں کہو کہ ایک طاقتور ہستی اس کا ہر وقت مقابلہ کرتی ہے۔