خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 434

$1948 434 خطبات محمود انہیں دعا پر یقین ہوا کرتا تھا ، وہ بزرگوں کے پاس جاتے تھے اور اُن سے دعا کے لیے کہا کرتے تھے، وہ انفرادی اور جماعتی طور پر دعا کیا کرتے تھے۔پھر جب وہ دوبارہ اُن کے پاس آتے اور وہ اُن سے اُن کے کام کے متعلق پوچھتے تو وہ کہتے وہ کام آپ کی دعا کی وجہ سے پورا ہو گیا۔وہ خود بھی اور وہ دعائیں اور وہ ایمان جو انہیں دعاؤں کی قبولیت پر تھا ختم ہو گیا ہے۔اب صرف فقرہ رہ گیا ہے۔جان نکل گئی ہے اور صرف جسم باقی رہ گیا ہے۔نہ کوئی دعا کرتا ہے اور نہ اُس میں دعا پر یقین اور ایمان باقی رہا ہے، نہ اُس کے اندر یہ احساس باقی ہے کہ اُس کا کام رُکتا چلا جاتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ سے دعا مانگے گا تو اُس کا کام پورا ہو جائے گا اور نہ ہی وہ ایسی حالت پیدا کر سکتا ہے کہ اُس کی دعا قبول ہو جائے۔وہ رسم کے طور پر السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَعَلَيْكُمُ السَّلام کہتا ہے اور ساتھ ہی کہہ دیتا ہے دعاؤں میں یا درکھنا۔یہ صرف عادت ہے۔ہمارا کام خواہ وہ انفرادی ہو یا قومی اُسی وقت ہوسکتا ہے جب اُس کے پیچھے روح کام کر رہی ہو خالی لاش اس کام کو نہیں کر سکتی۔زبانی باتیں کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا۔پس چاہیے کہ ہماری جماعت دعا کی طرف توجہ کرے اور اس کی اہمیت کو سمجھے۔جب تک جماعت اس کی اہمیت کو نہ سمجھے گی اُس کا کام مکمل نہیں ہو سکتا۔جتنی کمزوری یا کمی ہمارے کام میں ہے اُس کی آخر دو ہی صورتیں ہیں یا تو یہ عدم توجہ کی وجہ سے ہے یا پھر یہ دل پر زنگ لگ جانے کی وجہ سے ہے جسے وہ خود بھی نہیں جانتا کہ یہ کیوں ہے اور اس کا علاج کیا ہے۔خدا تعالیٰ ہی اسے دور کرے تو کرے۔اور یہ اُس وقت ہی ہو سکتا ہے جب وہ عاجزانہ اور منکسر انہ طور پر اس کے سامنے سجدے میں گرے اور اُس سے دعا کرے۔پس جماعت کے دوستوں کو نمازیں پڑھنے اور دعائیں کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔مثلاً نمازیں ہیں۔نماز میں فرض ہیں سنتیں ہیں اور نوافل ہیں۔پہلے فرض کی عادت ڈالو۔فرض جب ساری جماعت پڑھ رہی ہو تو انہیں نسبتاً جلد ادا کرنا چاہیے لیکن ایسے بھی نہیں جیسا کہ پرانے زمانہ میں بعض لوگ پڑھا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اُن کے سجدے ایسے ہوتے ہیں جیسے مرغ دانے چنتا ہے 4 جس طرح مرغ دانے چننے کے لیے زمین پر چونچ مارتا ہے اور اُٹھا لیتا ہے خواہ اُس کی چونچ میں دانہ آئے یا نہ آئے۔اسی طرح یہ لوگ بھی زمین پر اپنا سر مارتے ہیں اور پھر اُٹھا لیتے ہیں۔یا تو وہ کوئی الفاظ منہ سے نہیں کہتے اور اگر کہتے ہیں تو انہیں سمجھتے نہیں اور اگر سمجھتے ہیں تو اُن کے معنے نہیں جانتے۔یہ چونچوں والی نماز مراد نہیں لیکن پھر بھی حکم یہی ہے کہ