خطبات محمود (جلد 29) — Page 435
$1948 435 خطبات محمود نماز باجماعت کو مختصر کیا جائے۔نماز باجماعت میں بچے، بڑے، بیمارسب شامل ہوتے ہیں اور بعض دفعہ حاجت مند لوگ شامل ہوتے ہیں۔اس لیے اُسے لمبا کرنا درست نہیں۔لیکن پھر بھی نماز باجماعت میں ایسا موقع مل جاتا ہے جس میں نماز پڑھنے والا دعا کر سکتا ہے۔پہلے تو اس کی عادت ڈالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز با جماعت کے متعلق اس قدر اہتمام تھا کہ آپ نے فرمایا اُسے لمبانہ کیا جائے اور بعض دفعہ لمبا کرنے پر آپ ناراض بھی ہوتے تھے۔ایک صحابی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے نماز پڑھائی اُس میں میں نے ایک رکعت میں مثلاً سورۃ بقرۃ پڑھی اور دوسری رکعت میں سورۃ نساء پڑھی (اصل سورتیں مجھے اس وقت یاد نہیں)۔ایک شخص آیا اور نماز میں شریک ہو گیا لیکن بعد میں نماز توڑ کر اُس نے علیحدہ نماز پڑھنی شروع کر دی اور علیحدہ نماز پڑھ کے چلا گیا۔وہ صحابی فرماتے ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مسلمانوں میں بعض منافق بھی پیدا ہو گئے ہیں اُن کا علاج کرنا چاہیے۔مجھے ایک عجیب بات معلوم ہوئی ہے میں نماز پڑھا رہا تھا کہ ایک شخص آیا وہ نماز میں شامل ہو گیا مگر بعد میں اُس نے نماز توڑ دی اور علیحدہ پڑھ کر چلا گیا۔اتنے میں وہ شخص بھی آ گیا۔آپ نے دریافت فرمایا تم نے کیا کیا؟ اُس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم لوگ کام کرنے والے ہیں۔ہم نے جانوروں کے لیے چارہ بھی لانا ہوتا ہے اور انہیں پانی بھی پلانا ہوتا ہے۔انہوں نے پہلی رکعت میں سورۃ بقرہ اور دوسری رکعت میں سورۃ نساء پڑھنی شروع کر دی۔اگر میں الگ نماز نہ پڑھتا تو وہ جانور بھو کے مرجاتے۔اس لیے میں نے نماز توڑ دی اور جس طرح مجھے آتی تھی الگ پڑھ لی۔وہ صحابی فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہایت جوش میں آگئے۔آپ کے چہرے پر غضب کے آثار نمایاں ہو گئے۔آپ نے فرمایا تم لوگوں کو منافق بناتے ہو؟ تم کو کس نے کہا ہے کہ اتنی لمبی لمبی سورتیں پڑھا کرو؟ سورۃ غاشیہ اور اس جیسی اور سورتیں ہیں وہ پڑھا کرو تا یہ مقتدیوں کے لیے تکلیف ما لا يطاق کا سبب نہ بن جائے۔5 غرض نماز با جماعت کو چھوٹا کرنے کا ہی حکم ہے اور اسے لمبا کرنا منع ہے۔لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ موقع ایسا مل جاتا ہے کہ اس میں دعا کی جاسکتی ہے مثلاً سُبْحَانَ رَبِّي الا علی ہے کوئی اسے آہستہ آہستہ کہہ لیتا ہے اور کوئی تیز تیز کہ لیتا ہے۔امام پانچ بار پڑھتا ہے تو مقتدی بھی انہیں پورا کر لیتا ہے اور اس کے بعد پھر بھی کچھ نہ کچھ موقع مل جاتا