خطبات محمود (جلد 29) — Page 433
$1948 433 خطبات محمود اس کی استمد اد اور استعانت سے سے مستغنی رہتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کو بھی اس کی طرف توجہ نہیں ہوتی خواہ وہ اپنی کوششوں کو انتہا تک ہی کیوں نہ پہنچا دے۔لیکن اگر وہ اپنی کوششوں کو انتہا تک پہنچادیتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کے خانہ کو بھی خالی تصور کرتا ہے اور مانتا ہے کہ یہ کام پورا نہیں ہو گا جب تک خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت شاملِ حال نہ ہو۔پھر اس اقرار اور احساس کے بعد وہ خدا تعالیٰ سے دعا مانگتا ہے تو اس کی مدد کر اس کے کام کو مکمل کر دیتی ہے اور اس کی ناکامی کو کامیابی کے ساتھ بدل ڈالتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ دعا پر زور دیا کرتے تھے۔جب بدر کی جنگ شروع ہوئی مسلمانوں نے تمام وہ سامان جو مہیا ہو سکتے تھے مہیا کر لیے تھے، صحابہ اپنی جانیں پیش کرنے کے لیے تیار کھڑے تھے، اسلامی جرنیل اپنے مورچوں کو پورے طور پر مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گوشہ میں بیٹھ کر برابر دعا فرما رہے تھے کہ خدایا ! تو ہی اسلامی لشکر کو کامیاب کر۔آپ اس قدر گریہ وزاری کے ساتھ خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ میں گرے اور اس طرح گڑ گڑائے کہ حضرت ابو بکر جیسے آدمی نے بھی آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا خدا تعالیٰ کے ہم سے یہ وعدے نہیں کہ وہ دشمن کے مقابلہ میں ہمیں کامیاب کرے گا؟ اگر اُس کے ہم سے وعدے ہیں تو پھر اتنی گریہ وزاری کیوں؟ آپ نے فرمایا ابوبکر اللہ تعالیٰ کے ہم سے وعدے تو ہیں لیکن اللہ تعالیٰ غنی ہے ممکن ہے کہ اپنی کسی غفلت کی وجہ سے ہم اُس کی مدد سے محروم رہیں اس لیے میں دعا کرتا ہوں تا خدا تعالیٰ کے وعدے پورے ہوں۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری جماعت مادی نہیں ہماری جماعت میں کئی ایسے افراد ہیں جو دعاؤں کی تحریک کو معمولی سمجھتے ہیں اور بعض لوگوں میں تو اس کی عادت پڑ گئی ہے۔عام طور پر تمام مسلمان اس غلطی میں مبتلا ہیں اور وہ غلطی ہماری جماعت میں بھی پیدا ہوگئی ہے۔زبان پر تو لفظ دعا آتا ہے مگر اس سے مراد دعا نہیں ہوتی۔مجھے قریباً ہر روز ہی ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔میرے پاس کئی غیر احمدی دوست آتے ہیں میں اُن کو جانتا بھی نہیں ہوتا مگر وہ آکر کہتے ہیں آپ کی دعا سے ہمارا فلاں کام ہو گیا حالانکہ میں نے انہیں پہلے دیکھا بھی نہیں ہوتا۔میری اُن سے جان پہچان بھی نہیں ہوتی اور انہوں نے مجھ سے دعا کے لیے کہا بھی نہیں ہوتا۔پھر وہ کام میری دعا سے کیسے ہو گیا؟ یہ صرف عادت ہے کیونکہ وہ سنتے چلے آتے ہیں کہ اُن کے ماں باپ کسی زمانہ میں ایسا کیا کرتے تھے۔