خطبات محمود (جلد 29) — Page 432
$1948 432 خطبات محمود ہماری طاقت سے باہر ہے انہیں وہ خود پورا کر دے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ 2 میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔عبادت کے محض یہ معنے نہیں کہ وہ نمازیں جو ہم پڑھتے ہیں یا وہ روزے جو ہم رکھتے ہیں عبادت ہیں بلکہ جتنے احکام بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہم پر نازل ہوئے ہیں اور وہ تمام ذمہ داریاں جو ہم پر عائد ہوتی ہیں وہ سب عبادت میں شامل ہیں۔ہماری نمازیں ہی صرف عبادت نہیں ، ہمارے روزے ہی صرف عبادت نہیں، ہماری زکوۃ ہی صرف عبادت نہیں ، ہمارا حج ہی صرف عبادت نہیں بلکہ ہمارے چندے بھی عبادت ہیں، ہماری تبلیغ بھی عبادت ہے، ہماری تنظیم بھی عبادت ہے، پھر جماعتی کاموں میں جو ہمارا وقت صرف ہوتا ہے وہ بھی عبادت ہے، غرباء اور مساکین کی ترقی کے لیے جو ہم کوشش کرتے ہیں وہ بھی عبادت ہے۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ پر نظر رکھتے ہوئے اور ثواب کے حصول کے لیے ہم جو خدمت اپنے بیوی بچوں کی کرتے ہیں اسے بھی عبادت قرار دیا ہے۔غرض مومن کا ہر کام ہی عبادت ہے مگر اس کا سو فیصدی پورا کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں۔خدا تعالیٰ کی جماعتیں جب نئی قائم ہوتی ہیں ان کے ذرائع محدود اور کم ہوتے ہیں اور دشمن کے ذرائع ان کی نسبت بہت زیادہ وسیع اور اس کے سامان بہت زیادہ مکمل ہوتے ہیں۔پس ایاک نَعْبُدُ پر پورا عمل کرنے کے بعد بھی خدا تعالیٰ کا خانہ خالی رہ جاتا ہے اور اس کو پورا کرنے کے لیے خدا تعالیٰ نے اگلا جملہ بیان فرمایا ہے وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہ ہم تو اس کام کے لیے جتنی کوشش اور جدو جہد کر سکتے تھے کر رہے ہیں لیکن اے ہمارے خدا! باوجود ہماری کوشش اور سعی کے پھر بھی وہ کام پورا نہیں ہوتا جو ہمارے ذمہ لگایا گیا ہے۔اے خدا! ہم باوجود کوشش کے وہ کام نہیں کر سکتے۔جہاں تک ہماری کوشش اور جدو جہد کا سوال ہے ہم کریں گے لیکن پھر بھی جو خامیاں اور کمزوریاں اس میں رہ جائیں اے خدا! تو خود انہیں پورا کر دے۔غرض انبیاء کے کاموں کی تکمیل کے لیے دعا نہایت اہم اور ضروری چیز ہے اور جب تک اس پر زور نہ دیا جائے وہ کام پورے نہیں ہوتے۔انبیاء کے کام بے شک خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے مگر بندے میں یہ احساس تو ہونا چاہیے اور اسے یہ اقرار تو کرنا چاہیے کہ اس کام کو خدا تعالیٰ ہی کرے گا۔اگر بندہ اس کا اقرار نہیں کرتا اور اسے اس چیز کا احساس نہیں ہوتا کہ اس کام کو خدا تعالیٰ ہی پورا کرے گا اور وہ