خطبات محمود (جلد 29) — Page 412
$1948 412 خطبات محمود یقینی ہے کہ ہم بیرونی ممالک میں تبلیغ کا جال پھیلا دیں گے اور اس کے ذریعہ اسلام کا قلعہ ہر ملک میں قائم کر دیں گے۔اس کے لیے ارادہ کی ضرورت ہے ، نیت کی ضرورت ہے۔اس کے لیے ضرورت ہے ایسے باپوں کی جو اپنی اولاد سے کہیں کہ وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔اس کے لئے ضرورت ہے ایسی ماؤں کی جو اپنی اولاد سے کہیں کہ وہ اس جہاد سے پیچھے نہ رہے۔اس کے لیے ضرورت ہے ایسی بیویوں کی جو اپنے خاوندوں سے کہیں کہ اس جہاد میں ان کی گردنیں کسی سے نیچی نہ ہوں۔اس کے لیے ضرورت ہے ایسے نو جوانوں کے حوصلہ کی جو یہ کہیں کہ ہم اپنے زمانہ کے بوجھ کو دوسروں پر کیوں ڈالیں۔اگر قوم کے اندر ایسی ہمت اور امنگ پیدا ہو جائے تو ان کے سامنے کوئی چیز روک نہیں بنا کرتی۔روپیہ سے ہی صرف کام نہیں چلا کرتا جانوں سے بھی تو تم اپنے دین کی خدمت کر سکتے ہو۔تمہارے لیے دو مثالیں موجود ہیں۔ایک ہسپانیہ کے ملک کی جو بہت گراں ہے اور تمام دوسری طاقتوں نے اس کا محاصرہ اور بائیکاٹ کر رکھا ہے۔وہاں کا مبلغ خود پیسے کما کر لٹریچر شائع کرتا ہے۔اب فرانس میں بھی ہمارے مبلغ نے سر اٹھا نا شروع کر دیا ہے اور آہستہ آہستہ وہاں بھی کام شروع ہو جائے گا۔اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس میں روپیہ کی قربانی کی ہمت نہیں تو وہ اپنی جان پیش کر دے اور خود کمائے اور خدمت دین کرے۔اور جس کے پاس روپیہ ہے وہ روپیہ پیش کر دے۔جس طرح دو بیل ایک گاڑی کو چلاتے ہیں اسی طرح پر دو چیزیں ایسی ہیں جن سے قومی گاڑی چلتی ہے۔قرآن کریم میں متواتر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کا عمال اور ان کی جانیں لے لی ہیں اور اس کے بدلہ میں اُن سے جنت کا وعدہ کیا ہے 2 اور یہی چیز تحریک نے پیش کی ہے۔ایک طرف وہ نوجوانوں سے کہتی ہے کہ آؤ اور خدمت دین کے لیے اپنی جانوں کو پیش کر دو اور دوسری طرف کہتی ہے کہ آؤ اور اپنے مالوں کو پیش کر دو۔یہ وہی چیز ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے تمہاری جانیں اور تمہارے مال خرید لیے ہیں۔تحریک جدید اس پیشگوئی کے ماتحت جنت کو پیش کر کے تم سے مطالبہ کرتی ہے کہ تم اپنے مال اور اپنی جانیں پیش کر دو کیونکہ قوم کی گاڑی دو ہی بیلوں سے چلا کرتی ہے اور وہ جان اور مال ہیں۔کوئی شخص اگر مال کی قربانی کی توفیق نہیں پاتا تو وہ اپنی جان پیش کر دیتا