خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 411

$1948 411 خطبات محمود کے وعدے جو گزشتہ سال سے پہلے کے سالوں کے پورا ہونے سے رہ گئے ہیں انہیں بھی پورا کریں۔اگر یہ وعدے پورے ہو جائیں تو قرضے میں ڈیڑھ لاکھ کی کمی ہو جائے گی۔اس کے بعد میں دفتر دوم والوں کو لیتا ہوں۔میں ان نو جوانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیں ان پر بہت زیادہ اُمید تھی مگر افسوس ہے کہ وہ قربانی میں بہت پیچھے ہیں۔دور اول کے پہلے سال کے وعدے ایک لاکھ سات ہزار کے تھے اور دفتر دوم کے چوتھے سال ایک لاکھ چھ ہزار کے وعدے تھے۔دور اول کے ایک لاکھ سات ہزار کے وعدوں میں سے ایک لاکھ دس ہزار کی وصولی تھی یعنی وعدہ سے زیادہ رقم وصول ہوئی تھی لیکن دفتر دوم کے نوجوانوں کی ہمتوں پر افسوس ہے کہ ایک لاکھ چھ ہزار کے وعدوں میں سے صرف باون ہزار کی وصولی ہوئی ہے اور سال ختم ہو گیا ہے۔وہ وعدوں میں بھی پیچھے رہے اور ادا ئیگی میں بھی پیچھے رہے اور یہی حالت پچھلے سال کی تھی۔پچھلے سال بھی پچاس ہزار کے قریب وصول ہوا تھا اور اس سال بھی۔اگر یہ لوگ بھی اپنے وعدوں کو پورا کر دیں تو تین لاکھ کی وصولی گزشتہ سالوں کے وعدوں سے ہو سکتی ہے اور قرضہ نو لاکھ سے چھ لاکھ پر آ جاتا ہے۔اگر نئے نوجوان اپنے فرض کو سمجھیں تو نئی پود کے وعدے ساڑھے تین لاکھ سے کم نہیں ہونے چاہیں۔اور اگر ان کے وعدے اس حد تک پہنچ جائیں تو امید ہے کہ دور اول کے ختم ہونے پر ہم اس بوجھ کو بوڑھوں کے کندھوں سے اتار کر نئی پود کی قربانی سے جاری رکھ سکیں گے۔آخر پانچ سال کے بعد دور اول ختم ہو جائے گا اور اگر وہ ختم نہ بھی ہو اور پرانے لوگ بھی چندے دیتے رہیں تو بھی یہ نوجوانوں کے لیے کوئی عزت کی بات نہیں بلکہ یہ ذلت کی بات ہوگی کہ وہ اپنا فرض پوری طرح ادا نہیں کر سکے۔یہ تو ایسا ہے کہ نوجوان گھر بیٹھا کھائے اور بوڑھا کمائے۔نوجوان خود تو اس بوجھ کو نہ اٹھائیں بلکہ اسی نوے سالہ بوڑھوں سے کہیں کہ وہ اس کی بوجھ کو اٹھائیں۔انہیں چاہیے کہ وہ نہ صرف اپنے وعدوں کو بڑھائیں بلکہ اپنے وعدوں کو اس پیمانہ پر لے جائیں کہ وقت آنے پر تبلیغ کا سارا بوجھ ان کے چندوں سے پورا ہو سکے۔دو را ول تین لاکھ اسی ہزار تک پہنچا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ اسے پانچ لاکھ تک پہنچا دیں تو پھر تیسرے دور والوں سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اسے آٹھ لاکھ تک پہنچا دیں گے اور اس سے اگلے دور والے اسے دس بارہ لاکھ تک پہنچا دیں گے۔اگر ایسا ہو جائے تو پھر یہ بات