خطبات محمود (جلد 29) — Page 383
$1948 383 خطبات محمود اُن کے لیے خوراک مہیا کر لی جائے مگر وہ چندے سے پوری نہ ہوسکی۔حضرت عثمان نے جب دیکھا کہ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی ہے اور آپ کو گھبراہٹ ہو رہی ہے تو آپ نے اپنی آدھی دولت لا کر آپ کی خدمت میں پیش کر دی۔11 میں یہ نہیں کہتا کہ امراء میں قربانی اور ایثار نہیں پایا جاتا۔امراء میں بھی قربانی اور ایثار پایا جاتا ہے جیسا کہ میں نے سیٹھ عبداللہ بھائی صاحب کی مثال پیش کی ہے۔وہ مالدار ہیں اور مالدار ہوتے ہوئے بھی ان میں قربانی کی روح پائی جاتی ہے۔سیٹھ عبدالرحمان صاحب مدراس والے تھے۔مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب آپ کا ایک خط پڑھ رہے تھے آپ پر رقت طاری ہو گئی۔اُس میں تین چار سوروپیہ کا بیمہ تھا۔آپ غریب ہو گئے تھے۔آپ کا دیوالہ نکل گیا تھا۔اس سے پہلے آپ کا ہی چندہ سب سے زیادہ تھا۔وہ ماہوار دو سو دیتے تھے۔اُس وقت جماعت کی جو حالت تھی وہ ملک کی جو اقتصادی حالت تھی اُس کے لحاظ سے وہ دوسو دو ہزار کے برابر تھے۔سیٹھ صاحب نے اُس خط میں لکھا تھا میں کوشش کر رہا تھا کہ قرضے اُتار کر ایک چھوٹی سی دکان اپنے بھتیجے یا داماد کو ڈال دوں آپ کی نرینہ اولاد نہیں تھی ) تا گھر کا گزارہ ہو سکے۔ایک دوست نے دو تین ہزار روپیہ بھیج دیا ہے۔میں نے خیال کیا کہ میں نے دیر سے حضور کو کچھ ارسال نہیں کیا اس لیے اس رقم سے خدا تعالیٰ کا حصہ نکال دوں۔ان کا دل امارت کی وجہ سے خراب نہیں تھا۔وہ آسودہ حال تھے۔ہاں اُس وقت تنگی میں تھے۔اُس زمانے کے لحاظ سے وہ بڑے تاجر تھے کیونکہ آپ کی ہزار پندرہ سوکی ماہوار آمدن تھی اور آپ دوتین سو ماہوار چندہ بھیجا کرتے تھے۔پس امراء میں بھی ایسے آدمی ہوتے ہیں مگر غرباء میں ان کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔میں حیران ہوں کہ اس خط لکھنے والے کو یہ خیال کیوں گزرا۔اصل چندہ دینے والے اور قربانی کرنے والے تو غربا ء ہی ہوتے ہیں۔وہ شخص تو غرباء کی تائید کے لیے ایسا کہتا ہے مگر اس نادان نے غرباء کی یہ کہہ کر بہت بہتک کی ہے اور ان کے ایمانوں پر اس نے حملہ کیا ہے۔مال و دولت سے تو وہ پہلے ہی محروم تھے یہ اخلاص اور ایمان ہی کی دولت انہیں نصیب تھی اور اس نے ان سے وہ دولت بھی چھینے کی کوشش کی۔لیکن شیطان یہ دولت نہیں چھین سکتا اس نے قسم کے خواہ ہزاروں آدمی پیدا ہو جائیں۔یہی لوگ جن سے اس نے چندہ نہ لینے کی تحریک کی