خطبات محمود (جلد 29) — Page 382
$1948 382 خطبات محمود تا خدا تعالیٰ وہاں کے رہنے والوں کو محفوظ رکھے۔ایک شخص اور تھا جس کو یہ خیال آیا خواہ وہ دوسرے نقطہ نگاہ سے ہی تھا۔اُس کی تنخواہ بے شک ڈیڑھ سو سے زیادہ ہے۔وہ دوست افریقہ کے ہیں اُن کی طرف سے مجھے دوسو یا اڑھائی سو روپیہ کا چیک آ گیا۔انہوں نے لکھا کہ قادیان سے نکلے ہوئے کسی خاندان کو میری طرف سے یہ رقم دی جائے اور میں ماہوار چالیس روپے بھجواؤں گا وہ کسی خاندان کو ماہوار دیئے جائیں۔یہ دو ہی مثالیں ہیں ایک میری اور ایک اُس دوست کی۔ان کے علاوہ مجھے کوئی مثال معلوم نہیں۔سوائے غرباء کے جن کی آمد میں سو سے کم ہیں بلکہ یقیناً چھپتر سے کم ہیں۔انہوں نے بالمنقطع پانچ پانچ سو یا ہزار ہزار دیا ہے بغیر کسی تحریک کے۔انہوں نے خود ہی یہ رقم ادا کی جو کئی سالوں میں محنت کر کے اکٹھی کی ہوگی۔انہوں نے یہ سمجھا کہ جب لوگ لٹ لٹا کر آ گئے ہیں اور جماعت نازک دور میں سے گزر رہی ہے تو یہ رقم ہمارے پاس نہیں رہنی چاہیے۔یہ لوگ غرباء ہی تھے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں غریب ہوں اور میں پسند کروں گا کہ میں غریبوں میں ہی اٹھایا جاؤں۔آخر یہ آپ نے بلاوجہ نہیں فرمایا۔آپ نے اسی لیے فرمایا ہے کہ غربت لالچ کو کم کر دیتی ہے اور امارت حرص کو بڑھا دیتی ہے۔اگر امارت کے باوجود حرص مٹی رہے تو یہ نُورٌ عَلَى نُورٍ ہو جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غرباء آئے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! جو وظیفہ آپ نے ہم غرباء کو بتایا تھا تا کہ ہم امراء کے صدقہ و خیرات کے مقابل پر ثواب حاصل کر سکیں وہ امراء بھی کرنے لگ گئے ہیں۔آپ نے فرمایا میں کسی کو نیکی سے نہیں روک سکتا۔10 حضرت عثمان اُس زمانے کے بڑے امیر تھے۔اس زمانہ میں جو سب سے بھاری رقم چندے میں دی گئی تھی وہ آپ نے ہی دی تھی۔وہ رقم بارہ سے پندرہ ہزار تک بنتی ہے اور وہ ان کی کل دولت کا نصف تھی۔اس طرح ان کی ساری جائیداد چو بیس پچیس ہزار تھی۔آجکل اتنی دولت والے کو مالدار نہیں کہا جاتا۔اُس زمانہ میں امراء میں سے یہی ایک مثال ملتی ہے۔غزوہ تبوک کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چندہ اکٹھا کیا۔آپ کا خیال تھا کہ اس سے ستو وغیرہ خرید لیے جائیں۔انہیں پلاؤ زردے تو نہیں کھلانے تھے۔دس ہزار کا لشکر جارہا تھا اُس میں سے بیشتر حصہ اپنے ساتھ اپنا کھانا لے جارہا تھا۔دو تین ہزار آدمیوں کے پاس کھانا نہیں تھا۔آپ نے مناسب سمجھا کہ چندہ وغیرہ کر کے