خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 287

$1948 287 خطبات محمود لبنان میں بھی مسلمان خطرہ سے خالی نہیں۔غرض کوئی بھی ملک ایسا نہیں جہاں مسلمانوں کو خطرہ لاحق نہ ف فلسطین کا ہی مسئلہ در پیش نہیں بلکہ سب مسلمان ممالک خطرہ کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔عراق فلسطین کی جنگ میں اس لیے دخل نہیں دے رہا کہ وہ سمجھتا ہے کہ فلسطین کے عرب آزادی سے ނ محروم ہو جائیں گے۔شام اس لیے اس میں دخل نہیں دے رہا کہ فلسطین کے باشندے آزادی سے محروم ہو جائیں گے۔اسی طرح لبنان اس میں اس لیے شامل نہیں ہورہا کہ وہ سمجھتا ہے کہ فلسطین کے مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا کیونکہ لبنان میں تو ایک بڑی تعداد عیسائیوں کی بھی پائی جاتی ہے۔سعودی عرب اس لیے اس میں دخل نہیں دے رہا کہ فلسطین میں یہودیوں کے غلبہ سے فلسطین کے مسلمانوں کی عزت میں فرق آ جائے گا۔مصر اس میں اس لیے دخل نہیں دے رہا کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس سے فلسطینیوں کو نقصان پہنچے گا۔حقیقت یہ ہے کہ یہودیوں کی لمبی تاریخ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہودیوں کے عربوں کے خلاف منصوبے بہت خطرناک ہیں۔یہود فلسطین کے صرف اس حصہ کو نہیں لینا چاہتے جس پر انہوں نے قبضہ کر لیا ہے۔اگر صرف یہی سوال ہوتا تو عرب کبھی کے اس پر راضی ہو جاتے۔وہ صرف اس حصہ کو ہی نہیں لینا چاہتے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے یہ حصہ لے لیا تو پھر وہ آسانی کے ساتھ باقی حصہ کو فتح کرلیں گے اور اس کے بعد سارے عرب کو فتح کرلیں گے۔یہودیوں کی دولت اور تعداد ایسی نہیں کہ وہ دس ہزار مربع میل میں سماسکیں۔یہودیوں کی تعداد دو کروڑ کی ہے اور دولت کے لحاظ سے وہ ہر قوم کے دو کروڑ سے زیادہ مالدار ہیں۔یہودیوں کے دو کروڑ آدمی یورپین لوگوں کے دو کروڑ سے زیادہ مالدار ہیں۔دو کروڑ یہودیوں کی دولت دو کروڑ امریکنوں سے زیادہ ہے۔اس لیے یہودی اپنے دو کروڑ باشندوں کو دس ہزار مربع میل میں ترقی نہیں دے سکتے۔انہوں نے محسوس کر لیا ہے کہ سینکڑوں سال سے اُن پر جو ظلم ہوتے آرہے ہیں اور دشمن اُن کو ذبح کرتا آرہا ہے اس کے لیے جب تک وہ ایک ز بر دست حکومت نہ قائم کر لیں وہ عزت کی زندگی بسر نہیں کر سکتے۔اور اپنے اُن باشندوں کے جان اور مال کی حفاظت نہیں کر سکتے جو سلطنت کے قائم ہو جانے کے بعد بھی دنیا کے مختلف حصوں میں بس رہے ہوں گے۔اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک زبر دست یہودی سلطنت قائم کی جائے جہاں ان کی آبادی کا بیشتر حصہ بس سکے، جہاں وہ مزید دولت کما سکیں۔اور یہ ظاہر ہے کہ یہ باتیں اس تنگ علاقہ