خطبات محمود (جلد 29) — Page 286
$1948 286 خطبات محمود یورپ کی غلامی سے آزاد ہو جائے مگر ایک بھی ایسا نہیں جو شیطان کی غلامی سے آزاد ہونا چاہتا ہو۔ایک طرف اگر وہ جھوٹ بولتا جائے ، روحانیت کی ہتک کرتا جائے ، بے ایمانیاں کرتا جائے ظلم کرتا جائے ، غریب کی مدد نہ کرے، یتیموں کی طرف کوئی توجہ نہ دے اور اپنے فرائض کو محنت سے پورا نہ کرے اور باوجود اس کے وہ دوسری طرف شان و شوکت حاصل کرنا چاہے تو یہ ناممکن ہے۔نہ کبھی یہ پہلے ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔اگر وہ شان و شوکت کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے انفرادی اخلاق کو بدلنا پڑے گا۔بیچ ، محنت، حسنِ سلوک، حسن معامله، دیانت، امانت وغیرہ ان سب اخلاق کو پیدا کرنا ہوگا۔دوسری چیز قومی اخلاق ہیں۔مسلمانوں کی اس طرف توجہ ہے مگر اتنی نہیں کہ انہیں پورے طور پر کامیابی حاصل ہو سکے۔مثلاً یہ ہوا ہے کہ انہوں نے آگے قدم رکھنا چاہا ہے اور یہ ایک حد تک نظر آ رہا ہے مگر ساتھ ہی ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیا ہے جو اگر دوسرے سے ٹکرا جائے تو وہ اپنے اوپر قابو نہیں رکھتا۔دوسرے انفرادی اغراض کو قوم کے لیے قربان نہیں کیا جاتا۔یہ دونوں عیب دور ہو جائیں تب ہم دشمن پر فتح حاصل کر سکتے ہیں اور تب ہم امید کرسکیں گے کہ ہم خدا کی دی ہوئی قوتوں اور طاقتوں کو استعمال کر سکتے ہیں۔جس طرح ایک پہلوان کو جیل خانہ میں بند کر دیا جائے ، اُس کے گلے میں طوق ڈال دیئے جائیں، پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی جائیں تو اس کے متعلق ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس میں طاقت اور قوت نہیں۔ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنی طاقت وقوت کو استعمال نہیں کر سکتا۔اسی طرح ایک مسلمان میں خواہ کتنی دلیری اور جرات ہوا گر اُس کے انفرادی اور قومی اخلاق کمزور ہیں یا ہے تو وہ بہا در لیکن اسے اپنے نفس پر قابو حاصل نہیں تو ہم کہیں گے کہ وہ نفس کے جیل خانے میں ہے۔وہ شیطان کے قبضہ میں ہے۔جہاں تک قومی اخلاق کا سوال ہے مسلمان ترقی کی طرف جارہے ہیں اور آہستہ آہستہ آزادی کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اتنی جلدی ترقی حاصل کر لیں گے جتنی جلدی لڑائی شروع ہورہی ہے؟ یہ بظاہر ممکن نہیں۔اب تو ایک ہی چارہ ہے کہ مسلمان متحد ہو جائیں اور جو کچھ ان کے پاس ہے وہی لے کر دنیا کا مقابلہ کریں۔جب بعد میں بھی یہی ہونا ہے تو کیوں نہ ابھی سے اس پر عمل کیا جائے۔ہندوستان کے مسلمان مصیبت میں گرفتار ہیں، انڈونیشیا کے مسلمان محفوظ نہیں ، مصر کے مسلمان محفوظ نہیں ، شام کے مسلمان محفوظ نہیں، ٹرانس جورڈن 2ے کے مسلمان محفوظ نہیں ، سعودی عرب میں مسلمان امن میں نہیں اور