خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 288

$1948 288 خطبات محمود میں نہیں ہوسکتیں اس لیے انہوں نے یہ تجویز کی ہے کہ پہلے فلسطین کے ایک حصہ پر قبضہ کر لو۔پھر آہستہ آہستہ باقی فلسطین پر قبضہ کر لیا جائے گا۔پھر ٹرانس جورڈن پر قبضہ کر لیا جائے گا کیونکہ وہ بھی فلسطین کا ایک حصہ ہے۔پھر شام اور لبنان پر قبضہ کر لیا جائے گا۔اس لیے کہ اسرائیلی اپنے لمبے دور میں ان پر قابض رہے۔پھر عرب پر قبضہ کر لیا جائے گا اس لیے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت یمن کے کناروں تک تھی۔پھر مصر پر قبضہ کر لیا جائے گا اس لیے کہ وہاں وہ آباد تھے اور انہیں جبر اوہاں سے نکال دیا گیا تھا۔ان کی اس تجویز کے مطابق حکومت اسرائیل آئندہ، شام، لبنان، ٹرانس جورڈن،عرب، یمن اور عراق پر مشتمل ہوگی۔پھر ان سب ملکوں میں بھی وہ ڈیڑھ کروڑ کے قریب یہودیوں کو اس وقت ہی بسا سکتے ہیں جبکہ وہ وہاں کے رہنے والے عربوں کو مار دیں ورنہ وہ ان کی زمینوں پر قبضہ نہیں کر سکتے ،ان کے مکانوں پر قبضہ نہیں کر سکتے ، ان کی صنعتوں پر قبضہ نہیں کر سکتے ، شہر اور تجارتیں نہیں لے سکتے اور نہ ہی اپنی دولت کو بڑھا سکتے ہیں۔جس طرح مشرقی پنجاب کے متعلق یہ خیال کیا گیا تھا کہ سکھ اور ہند و پناہ گزین جو مغربی پنجاب سے آئے ہیں وہ کہاں بسیں گے؟ اُن کو یہاں بسانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے مسلمانوں کو نکال دیا جائے۔پہلے سکھوں اور ہندوؤں کو بہکایا گیا کہ وہ مشرقی پنجاب آجائیں اور جب وہ آگئے تو پھر یہ سوال تھا کہ انہیں بسایا کس جگہ جائے؟ اس کی ایک ہی تجویز تھی کہ مسلمانوں کو مارڈالو اور ان کی تجارتیں اور زمینیں اپنے قبضہ میں لو۔یہی سیکیم بعینہ فلسطین میں بھی چل رہی ہے۔پس عراق لڑ رہا ہے اس لیے کہ فلسطین کے بعد وہ بھی زندہ نہیں رہے گا۔شام لڑ رہا ہے اس لیے کہ اس کی زندگی بھی فلسطین کے بعد خطرے میں پڑ جائے گی۔لبنان لڑ رہا ہے اس لیے کہ وہ ای جانتا ہے کہ یہاں عیسائیت کا سوال نہیں۔ان یہودیوں کو تو زمین اور ملک چاہیے۔مصر جانتا ہے کہ اگر فلسطین میں یہودی سلطنت قائم ہوگئی تو اُن کی آئندہ تجویز سارے عرب ممالک کو فتح کرنا ہے۔کیونکہ یہود قوم اتنے کم رقبہ میں نشو و نما نہیں پاسکتی۔غرض فلسطین کا جھگڑا شام، لبنان ، عراق ، مصر اور سعودی اور یمنی عرب کا جھگڑا ہے اور یہ سب اسلامی ممالک خطرہ میں ہیں۔پنجاب اور دوسرے علاقوں کا یہی حال ہے۔یہی حال انڈونیشیا کا ہے۔افغانستان کے باشندے بہادر ہیں مگر ان کے پاس بھی کوئی طاقت نہیں۔وہ صرف رقابت کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں۔روس یہ نہیں چاہتا تھا کہ ان کے بارہ میں کوئی دوسری حکومت دخل اندازی کرے۔لیکن اب روس سمجھتا ہے کہ انگریزوں کے ہندوستان سے چلے