خطبات محمود (جلد 29) — Page 285
$1948 285 خطبات محمود ڈنک مارتی ہے، چیونٹی اپنے منہ سے ڈسنے کی کوشش کرتی ہے۔یہ نہیں ہے کہ مقابلہ وہی چیز کرتی ہے جسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مقابلہ میں کامیاب ہو جائے گی۔مکھیاں اور چیونٹیاں دونوں جانتی ہیں کہ وہ مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتیں مگر اس کے باوجود وہ مقابلہ کو چھوڑتی نہیں۔پھر انسان اگر اس کے حواس ٹھیک ہیں اس بات کی کب برداشت کر سکتا ہے کہ ایک طاقتور ہجوم اس پر حملہ کر دے، بگولے اسے اڑا کر لے جائیں۔بھنورا اسے چکر میں ڈال دیں اور وہ بلا جد و جہد اپنے آپ کو اڑنے دے اور بھنور کو چکر دینے دے۔حقیقت یہ ہے کہ بگولے میں اڑ جانے اور بھنور میں چکر دینے کے ہزاروں موجب ہو سکتے ہیں۔اس بگولے میں اڑ جانے اور بھنور میں چکر کھانے کا موجب ہماری کم ہمتی ہے، ہمارا مقابلے کو چھوڑ دینا ہے۔اور مقابلہ نہ کرنے کی وجہ سے کامیابی کا جو امکان موجود تھاوہ بھی جاتا رہا ہے۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم پوری کوشش سے اس کا مقابلہ کریں اور بے ہمتی ، ستی ، غفلت اور بزدلی کو پاس نہ آنے دیں یہاں تک کہ دشمن ہتھیار ڈال دے۔اول تو مقابلہ میں جیتنے کا امکان بھی ہوتا ہے لیکن اگر کوئی ہار بھی جائے تب بھی وہ عزت کے ساتھ اس دنیا سے نکل جائے گا۔اس وقت دنیا میں جو بھنور پیدا ہوا ہے، جو بگولا اڑ رہا ہے اس کی ساری زد مسلمانوں پر آتی ہے۔اس لیے مسلمانوں کو اب فیصلہ کر لینا چاہیے کہ ان حالات میں کیا مزید انتظار کرنا مسلمانوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے؟ کیا کوئی ایسے امکانات پائے جاتے ہیں کہ ہم آئندہ قوت پکڑ لیں؟ میرے نزدیک یہ بات نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمانوں میں اب بیداری پیدا ہو چکی ہے اور وہ آہستہ آہستہ آزادی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ بیداری جس رنگ میں ہو رہی ہے اس کی قریب کے عرصہ میں تکمیل کی امید نہیں کی جاتی۔امید اُسی وقت کی جاسکتی ہے جب ہم حقیقی طور پر بہادر بنیں ، ہمارے اخلاق درست ہوں۔اس وقت نہ مسلمانوں کے انفرادی اخلاق ہی اعلیٰ ہیں اور نہ قومی اخلاق اعلیٰ ہیں۔انفرادی اخلاق کے بغیر روحانی فتح نہیں ہوسکتی اور قومی اخلاق کے بغیر جسمانی اور مادی ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔اور اخلاق کی درستی کے لیے وقت چاہیے۔سب سے پہلے لیڈروں اور راہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر خاص تبدیلی پیدا کریں مگر اس طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی۔ہر ایک شخص یہ تو چاہتا ہے کہ وہ حاکم ہو جائے۔وہ یہ تو چاہتا ہے کہ