خطبات محمود (جلد 29) — Page 181
$1948 181 خطبات محمود نتیجہ میں برکات حاصل نہیں ہوتیں صرف چند افراد تک وہ برکات محدود رہتی ہیں۔اس کے بعد میں نے کچھ تبدیلیاں اس پہلی تجویز میں کیں اور میں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ ہمیں اس نئی تحریک کے دو معیار مقرر کرنے چاہیں۔ایک تو یہ کہ جماعت کے احباب ساڑھے سولہ فیصدی اپنی آمد کا چندہ میں دیں اور دوسرا اونچا معیار یہ ہو کہ 33 فیصدی دیں۔اس کے درمیان جتنی جتنی کسی کو توفیق ہو دے۔مگر کم سے کم اس تحریک کے علاوہ ہماری جماعت کے ہر بالغ فرد کو خواہ وہ عورت ہو یا مرد اس بات کا پختہ عہد کر لینا چاہیے کہ وہ جلد سے جلد وصیت کر دے کیونکہ وصیت کا سوال روپیہ کے لیے بھی ہمارے لیے ضروری ہے اور اس لیے بھی ضروری ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں قادیان کے پھٹ جانے اور مقبرہ بہشتی کے ہاتھ سے نکل جانے کی وجہ سے اب اس جماعت کا تعلق اخلاص مقبرہ سے اُس قسم کا نہیں ہو سکتا جس قسم کا پہلے تھا۔ہم نے اپنے مخالف کو جواب دینا ہے اور اسے بتانا ہے کہ ہمارا ایمان ان چیزوں سے وابستہ نہیں۔ہمارا ایمان خدا تعالیٰ کے وعدوں سے وابستہ ہے اور خدا تعالیٰ کے وعدوں کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ کسی خاص خطہ سے پورے ہوں۔یہ چیز ان وعدوں کے پورا ہونے کی ایک ظاہری علامت تو ہے مگر باوجود اس کے کہ یہ ظاہری علامت کچھ عرصہ کے لیے مٹ جائے یا کمزور پڑ جائے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ علامت جس چیز کی قائم مقام ہے وہ ہمیشہ زندہ رہے گی اور اُس پر ہمارا ایمان قائم رہے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود ایک علامت تھا اسلام کے لیے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فوت ہونے کے بعد اور اس علامت کے غائب ہونے کے بعد اسلام سے ہمارا تعلق کمزور نہیں ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود ہمارے اندر احمدیت کی ایک علامت تھا مگر آپ کی وفات کے بعد اور اس علامت کے محو ہونے کے بعد احمدیت پر ہمارا ایمان کمزور نہیں ہوا۔مجھے یاد ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے میری عمر 19 سال کی تھی۔اُس وقت جماعت کے بعض کمزور لوگ ایسے بھی تھے جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر ھبہ پیدا ہوا کہ بعض پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں اور آپ کی وفات آپ کی صداقت کو مشتبہ کر دیتی ہے۔ایسے ایک دو آدمی ہی تھے مگر میرے کان میں اُن کی باتیں پڑیں۔گو وہ بڑی احتیاط سے باتیں کرتے تھے اور صرف اس رنگ میں گفتگو کرتے تھے کہ لوگ کہیں گے فلاں فلاں پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اب کیا بنے گا اور دشمن کے اعتراضات کا کیا جواب دیا جائے گا ؟ جب میرے کان میں