خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 182

خطبات محمود 182 $1948 اُن کے یہ الفاظ پڑے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی لاش کے پاس گیا اور آپ کے سرہانے کھڑے ہو کر میں نے خدا تعالیٰ سے یہ وعدہ کیا کہ الہی! میرا یہ یقین ہے کہ یہ شخص تیری طرف سے ہے اور تُو نے ہی اس کو مسلمانوں کی ترقی اور اُن کے احیاء کے لیے بھیجا ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ چندلوگوں کے دلوں میں اس کی صداقت کے متعلق شبہ پیدا ہورہا ہے۔میں اس شخص کی لاش کے سامنے کھڑے ہو کر تیرے حضور یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ایک احمدی بھی باقی نہ رہے اور سارے کے سارے مرتد ہو جا ئیں تب بھی میں اس تعلیم کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کی کوشش کروں گا۔بے شک ایک 19 سالہ نو جو ان کے منہ سے یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے اور شاید اکثر اوقات انسان ایسا عہد کچھ دنوں کے بعد بھولنا شروع کر دیتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ ایسے حالات پیدا ہوتے رہے جن میں اس عہد کو بار بار دہرانے اور اس عہد کو بار بار پورا کرنے کے سامان پیدا ہوتے رہے۔اب جبکہ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہے اٹھاون سال میری عمر میں سے گزر چکے ہیں اور اُنسٹھواں سال جا رہا ہے۔پھر ایسا واقعہ پیش آیا جس نے احمدیت کو بظاہر اس کی بنیادوں سے ہلا دیا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اُس نے پھر مجھے اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق بخشی اور اب بھی میں یہی سمجھتا ہوں کہ اگر ساری جماعت مرتد ہو جائے تب بھی اس عمر تک پہنچ جانے کے باوجود میں یہ امید اور یقین رکھتا ہوں کہ پھر نئے سرے سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو قائم کر دوں گا اور میں سمجھتا ہوں ہر مومن کے لیے یہی معیار اُس کے ایمان کے پر کھنے کے لیے ہونا چاہیے۔جب تک ہم میں سے ہر شخص اس معیار پر پورا نہیں اتر تا، جب تک زید اور بکر کی طرف سے اُس کی نظریں ہٹ نہیں جاتیں اور جب تک وہ یہ نہیں سمجھتا کہ میرے ذریعہ سے ہی اسلام نے قائم ہونا ہے اُس وقت تک وہ حقیقی خدمت احمدیت کی نہیں کر سکتا۔سو اس مصیبت کے وقت میں ہمارا فرض ہے کہ میں سمجھتا ہوں ہر احمدی کے امتحان کا یہ موقع ہے کہ اگر وہ زیادہ قربانی نہیں کر سکتا تو وصیت والی قربانی کر دے اور دشمن کو بتا دے کہ قادیان کے نکلنے کو ہم صرف ایک عارضی مصیبت سمجھتے ہیں ورنہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ مقام ہمارا ہے اور ہماری لاشیں وہیں دفن ہوں گی۔میری اس تحریک کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک روچلنی شروع ہو گئی ہے اور اب میں دیکھتا ہوں کہ روزانہ اچھی خاصی اطلاعیں ایسے لوگوں کی طرف سے آجاتی ہیں جنہوں نے