خطبات محمود (جلد 28) — Page 451
خطبات محمود 451 سال 1947ء چیز ہمارے سامنے ہونی چاہیئے اور جس سے ہمیں کام لینا چاہیئے وہ جذبات ہیں۔لوگ سمجھتے ہیں کہ جذبات اور عقل دونوں ایک وقت میں کام کر سکتے ہیں۔حالانکہ یہ بالکل غلط بات ہے۔عقل و فکر صرف ایک وقت کام کرتے ہیں پھر اُن کا دور ختم ہو جاتا ہے اور جذبات۔خصص کا دور شروع ہوتا ہے۔جیسے انسانی عمر کے مختلف دور ہوتے ہیں۔مثلاً ایک دور بچپن کا ہے۔پھر اس بچپن کے دور کے کئی حصے ہیں۔ایک پنگھوڑے کا زمانہ ہے۔ایک دودھ پینے کا زمانہ ہے۔ایک کھیلنے گودنے کا زمانہ ہے۔بچپن کے بعد جوانی اور نشو و نما کا زمانہ ہے۔پھر شادی بیاہ کا زمانہ ہے۔پھر بچوں کا زمانہ ہے۔پھر اعلیٰ درجہ کے کام کرنے کا زمانہ ہے۔پھر کمزوری اور ضعف کا زمانہ ہے جس میں دماغ کا کام تو بڑھ جاتا ہے مگر جسم کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔پھر قومی کے اضمحلال کا زمانہ ہے۔جس طرح یہ دور مختلف ہیں اسی طرح کاموں کے بھی مختلف حصے ہیں۔عقل انسان کو صرف ایک حد تک لے جاتی ہے اس کے بعد جذبات کا زمانہ شروع ہوتا ہے۔جو ساری عمر عقل کو اپنے ساتھ لئے چلا جاتا ہے وہ کہیں کا میاب نہیں ہو سکتا۔اسی طرح جو شخص ساری عمر جذبات سے کام کئے چلا جاتا ہے وہ بھی کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔جو شخص اُس وقت جذبات سے کام لے گا جب عقل سے کام لینا چاہیئے تو وہ غلط فیصلہ کرے گا۔وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ واقع میں یہ کام مفید ہے یا نہیں۔وہ صرف اپنے میلان کو دیکھے گا اور میلان غلط بھی ہو سکتا ہے۔اسی طرح جو شخص اُس وقت عقل سے کام لے گا جب جذبات سے کام لینے کا وقت ہو گا وہ بھی کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔کیونکہ وہ ہمیشہ بے اطمینانی کی حالت میں رہے گا اور کبھی نڈر اور بے خوف ہو کر اپنے لئے کوئی راستہ تجویز نہیں کر سکے گا۔جب ایک شخص دعوی کرتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے تو ہمارا پہلا فرض یہ ہے کہ ہم عقل سے کام لیں اور غور کریں کہ وہ اپنے دعوی میں سچا ہے یا نہیں۔مگر جب ہم نے اُسے مان لیا تو پھر عقل کا کام ختم ہو گیا۔پھر جذبات کا زمانہ شروع ہونا چاہیئے اور ہمارا فرض ہونا چاہیئے کہ ہم عقل کی بجائے جذبات سے کام لیں۔اور اس قدر کام لیں کہ ایک لمحہ کے لئے بھی ہم اس سے اِدھر اُدھر نہ ہوں۔جس طرح ماں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے اس طرح ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اُس مدعی کے ساتھ عقلی نہیں بلکہ جذباتی تعلق رکھیں۔عقل تبھی تک تھی