خطبات محمود (جلد 28) — Page 452
خطبات محمود 452 سال 1947ء جب تک ہم نے اُسے نہیں مانا تھا۔جب ہم نے مان لیا تو عقل کا کام ختم ہو گیا۔اس کے بعد جذبات کا دور شروع ہوگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ بدر کے لئے تشریف لے گئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے گو آپ کو معلوم تھا کہ جنگ ہو گی مگر ساتھ ہی آپ کو یہ ہدایت تھی کہ ابھی یہ صورتِ حالات صحابہ کو نہ بتائی جائے۔صحابہ کا خیال تھا کہ وہ قافلہ جو شام سے تجارت کر کے واپس آ رہا ہے ہمارا اُس سے مقابلہ ہو گا۔اس لئے صحابہ میں سے بہت تھوڑے لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے اور اکثر مدینہ میں ہی رہ گئے۔کیونکہ وہ جنگ کی امید نہیں رکھتے تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ جنگ کے قریب پہنچے تو آپ نے صحابہ کو اکٹھا کیا اور فرمایا مجھے اطلاع مالی دی گئی ہے کہ کفار سے ہماری جنگ ہو گی۔اب تم بتاؤ کہ تمہاری کیا صلاح ہے ؟ آیا تم اس خیال سے کہ ہم تیاری کر کے نہیں آئے واپس کو ٹنا چاہتے ہو یا اس خیال سے کہ خدا نے موقع دے دیا چی ہے کہ ہم دشمن سے اپنے اختلافات کا فیصلہ کر لیں لڑنا چاہتے ہو؟ مہاجرین صحابہ یکے بعد دیگرے کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم لڑائی کے لئے تیار ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کا یہی منشاء ہے کہ جنگ ہو تو ہم ڈرتے نہیں۔اگر تھوڑے ہیں تو کیا ہوا؟ پہلے ایک نے مشورہ دیا پھر دوسرے نے مشورہ دیا پھر تیسرے نے مشورہ دیا پھر چوتھے نے مشورہ دیا پھر پانچویں نے مشورہ دیا پھر چھٹے نے مشورہ دیا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مشورے کے بعد فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو کہ کیا کرنا چاہیئے ؟ جب یکے بعد دیگرے پانچ سات مہاجرین کھڑے ہوئے اور ہر ایک کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے چلے گئے کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو تو ایک انصاری نے کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کو مشورہ تو مل رہا ہے۔یکے بعد دیگرے مہاجرین کھڑے ہو کر اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں مگر آپ بار بار فرماتے ہیں کہ اے لوگو ! مجھے مشورہ دو۔شاید آپ کی مراد ہم انصار سے ہے کہ اے انصار تم مجھے مشورہ دو کہ اس موقع پر ہمیں کیا کرنا چاہیئے ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ٹھیک سمجھے ہو۔میرا یہی منشاء ہے۔اس پر اُس نے کہا یا رسول اللہ ! غالباً آپ کا اشارہ اُس معاہدہ کی طرف ہے جو ہم نے آپ سے اُس وقت کیا تھا جب ہمارا وفد مکہ میں آپ سے ملا۔اور ہم نے اس شرط پر آپ کی بیعت کی تھی کہ