خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 450

خطبات محمود 450 سال 1947ء ہے۔تو وہ اُس سے لڑنے لگ جاتی۔پھر اگر اس عمر میں کوئی بچہ پیدا بھی ہوتو یہ یقینی بات ہے کہ ماں باپ اُس کے جوانی تک پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو جائیں گے۔اگر 21 سال جوانی کی عمر فرض کر لی جائے تو 60 سال کی عورت اُس وقت 81 سال کی ہوگی۔اور 70 سالہ باپ اُس وقت 91 سال کا ہوگا۔مگر کتنے مرد ہیں جو اس عمر کو پہنچتے ہیں؟ یا کتنی عورتیں ہیں جو اس عمر کو پہنچتی ہیں ؟ لاکھوں لاکھ میں سے کوئی ایک ہی اِس عمر کو پاتا ہے۔لیکن باوجود اس حقیقت کے اگر کوئی اُن سے کہتا کہ تم کیوں اپنا وقت فضول ضائع کرتے ہو؟ تمہیں بچے سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟ تم تو اُس کے جوانی تک پہنچنے سے پہلے ہی مرجاؤ گے تو وہ اُس کے پیچھے پڑ جاتے اور کہتے تم تو ہمارے دشمن ہو جو ایسی بات کہہ رہے ہو۔غرض بچہ کی پیدائش کی خواہش عقل کے ماتحت نہیں ہوتی۔ایک انسان مکان بناتا ہے تو اس لئے بناتا ہے کہ میں اس مکان میں رہوں گا اور سردی گرمی سے محفوظ رہوں گا۔ایک انسان فصل ہوتا ہے تو اس لئے ہوتا ہے کہ میں فصل کو کاٹوں گا ، اپنا اور اپنے بیوی نے بچوں کا پیٹ بھروں گا۔لیکن ماں باپ بچے کی خواہش کسی خاص نیت کے ماتحت نہیں کرتے۔صرف اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں بچہ مل جائے۔یہ اُن کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی نہیں ہوتا کہ بچہ بڑا ہو گا تو ہمیں کما کر کھلائے گا یا ہمارا نام روشن کرنے کا موجب ہوگا۔کبھی گفتگو میں کوئی ہے ذکر آ جائے تو اور بات ہے۔ورنہ ماں باپ بچے کی خواہش محض بچے کے لئے کرتے ہیں اور کسی ہے چیز کے لئے نہیں کرتے۔اسی لئے بچہ کی پرورش میں کوئی چیز روک نہیں بنتی۔کوئی ماں اس لئے کیے پنے بچہ کی پرورش میں حصہ لینے سے انکار نہیں کر دیتی کہ میں بڑھیا ہوں میں اس کی کمائی سے حصہ نہیں لے سکوں گی۔یا کوئی ماں اس لئے اپنے بچہ کی پرورش میں کمی نہیں کرے گی کہ یہ گند ذہن ہے بڑا ہو کر پڑھے گا نہیں اور اس لئے روپیہ کما نہیں سکے گا۔اسی طرح کوئی ماں اس لئے بھی اپنے بچہ کی پرورش کو نہیں چھوڑ دیتی کہ ممکن ہے پانچ چھ سال کے بعد یہ مرجائے اور میری ساری محنت اکارت چلی جائے۔ایسے خیالات کسی ماں کے دل میں آئیں بھی تو وہ ان کو غداری سمجھے گی اور دیوانہ وار بچہ کی پرورش میں لگ جائے گی۔تو اس قسم کی جذباتی چیزیں ہی ہیں جو انسان کی کامیابی کا موجب ہوتی ہیں۔عقل و فکر محض اس لئے دی گئی ہے کہ ہم بُرے اور بھلے میں تمیز کریں۔مگر جب بُرے اور بھلے میں ہم تمیز کر لیں تو عقل کا کام ختم ہو جاتا ہے۔اس کے بعد جو