خطبات محمود (جلد 28) — Page 439
خطبات محمود 439 سال 1947ء چا ہو کہ خدا تعالیٰ اُن کو بھی اخلاص اور روحانیت کے مقام پر کھڑا کرے۔وہ ذراسی کمزوری کو بھی موت سمجھیں نہ یہ کہ بات سنیں اور ہنس کر آگے چل پڑیں۔یہ دن کام کے دن ہیں۔یہ دن قربانی کے دن ہیں۔سارے ہی دن کام کے دن ہوتے ہیں اور سارے ہی دن قربانی کے دن ہوتے ہیں۔مگر کوئی دن زیادہ اہم ہوتے ہیں اور کوئی دن کم اہم ہوتے ہیں۔اسی طرح سارے ہی دن دین کے لئے اپنے آپ کو فنا کرنے کے ہوتے ہیں۔مگر کوئی دن ایسے ہوتے ہیں کہ اگر انسان ذرا بھی غفلت کرے تو خدا اُس کی پروا نہیں کرتا ت بلکہ اُسے مٹا دیتا ہے۔کچھ دنوں میں خدا چشم پوشی سے کام لیتا ہے۔مگر کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جن میں وہ چشم پوشی سے کام نہیں لیتا۔یہ وہ دن ہیں جب اسلام کو اُن مسلمانوں کی ضرورت ہے جو قربانی کے بکرے بننے کے لئے تیار ہوں۔آج وہی شخص اسلام کے لئے عزت کا موجب ہوسکتا ہے۔آج وہی شخص خدا تعالیٰ کے حضور عزت حاصل کر سکتا ہے جو قربانی کا بکرا بننے کے لئے تیار ہو اور سمجھتا ہو کہ میں ہر وقت قربانی دینے کے لئے آمادہ ہوں۔صرف آواز آنے کی ضرورت ہے۔بلکہ اُسے یہ رنج ہو، یہ الم ہو، یہ دکھ اور یہ درد ہو کہ کیوں مجھے اب تک قربانی کے لئے نہیں بلایا گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری عمر میں صرف ایک دفعہ صحابہ سے موت کی قسم لی تھی جسے بیعت رضوان اور بیعت موت اور بیعت شجرہ بھی کہتے ہیں۔یہ وہ بیعت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس موقع پر لی جس کے بعد صلح حدیبیہ کا واقعہ ہوا۔آپ عمرہ کرنے کے لئے کچھ ساتھیوں سمیت مکہ گئے۔جب مکہ کے قریب پہنچے تو چونکہ کفار کو آپ کی آمد کا علم ہو گیا وہ ایک بڑا لشکر لے کر آپ کو روکنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی آدمی بھیجوانا چاہا تا کہ وہ کفار کے عمائد سے گفتگو کرے اور اُن سے کہے کہ ہم تو صرف عمرہ کرنے کے لئے آئے ہیں لڑنے اور فساد کرنے کے لئے نہیں آئے۔پھر کیوں ہم سے جنگ کی جاتی ہے۔جب آپ نے اس بارہ میں صحابہ سے مشورہ لیا تو سب نے مشورہ دیا کہ اس گفتگو کے لئے حضرت عثمان کو بھجوایا جائے۔کیونکہ اُن کے رشتہ دار اُس وقت برسر حکومت تھے۔آپ نے اس مشورہ کے مطابق حضرت عثمان کو بھجوا دیا۔جب حضرت عثمان مکہ پہنچے تو چونکہ اُن کے رشتہ دار بھی اور دوست بھی اور عزیز بھی سب وہیں تھے۔آپ نے باتیں کیں تو باتیں لمبی ہوگئیں اور بحث مباحثہ