خطبات محمود (جلد 28) — Page 438
خطبات محمود 438 سال 1947ء ہوں تو وہ جماعت کے ماتھے پر ہزار چاند لگا دیں گے۔پس جماعت کو چاہیئے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور عہدیداروں کو چاہیئے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔میں نہیں جانتا کہ دونوں میں سے کس کا قصور ہے، یا ممکن ہے دونوں کا ہی قصور ہو۔بہر حال ذہنیت گندی ہے۔افسر سمجھتے ہیں کہ جماعت کی تعداد جتنی زیادہ ہو گی اُتنی ہی اُن کی عزت ہو گی اور جماعت سمجھتی ہے کہ اگر افسر بڑی بڑی ڈگریوں والے ہوں گے تب اُس کی عزت ہو گی۔یہ دونوں نظریے نہایت گندے ، ناپاک اور ذلیل ہیں۔نہ جماعت کی تعداد کوئی اہمیت رکھتی ہے اور نہ افسروں کا ڈگری یافتہ ہونا کوئی اہمیت رکھتا ہے۔اگر ڈگریوں کے ساتھ ہی جماعت کو عزت ملتی ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کے پاس کون سی ڈگریاں تھیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے پاس کون سی ڈگریاں تھیں ؟ یا اب جو تمہاری ہے جماعت کا امام ہے اُس کے پاس کون سی ڈگریاں ہیں ؟ تب تو تم پہلے سے ہی ایک ذلیل جماعت ہو۔لاہور کا امیر یا سیکرٹری تم کو کیا عزت دے سکتے ہیں۔جب تمہارا امام بھی تمہارے نقطہ نگاہ سے (نعوذ باللہ ) ایک ذلیل انسان ہے کیونکہ ڈگریاں اُس کے پاس نہیں اور اگر جماعت کی تعداد ہی عزت کا موجب ہوتی ہے تب بھی تم ذلیل وجود ہو۔کیونکہ دُنیا کی اور اقوام کے مقابلہ میں تمہاری کون سی تعداد ہے۔اور اگر تھوڑی سی تعداد کی وجہ سے تمہیں دنیا میں کوئی ذلت نہیں پہنچ ہے سکی تو لا ہور میں اگر تمہاری تھوڑی سی تعداد ہوگی تو تمہیں کون کی ذلت پہنچ جائے گی۔پس کاٹ دو کچھ جماعت کے ناکارہ طبقہ کو اور اس کے متعلق ہمارے پاس رپورٹ کرو تا کہ انہیں الگ کر دیا جائے۔اخلاص اور صرف اخلاص ہی آج کام آ سکتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مالی آج دنیا میں مخلص ارواح کو تلاش کر رہی ہے اور یہی مخلص ارواح کا جتھا ہے جو اسلام کو پھر اُس کے اصل اور باعزت مقام پر کھڑا کر سکتا ہے۔انسانوں کی تعداد کے لحاظ سے آج بھی مسلمان چالیس کروڑ ہیں اور دنیا کی کوئی قوم تعداد میں اُن کے برابر نہیں۔مگر تعداد نے مسلمانوں کو مصائب اور آلام سے نہیں بچایا۔اسلام کو قربانی اور اخلاص اور روحانیت ہی بچا سکتے ہیں۔اس کے لئے جد و جہد کرو۔اپنے لئے بھی اور اپنے حکام کے لئے بھی۔خود بھی چاہو کہ خدا تم کو اخلاص اور روحانیت کے مقام پر کھڑا کرے اور اپنے امیروں، پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کے متعلق بھی