خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 440

خطبات محمود 440 سال 1947ء طول پکڑ گیا۔اُنہوں نے کہا کہ ہم اس دفعہ محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کی اجازت مالی نہیں دے سکتے۔ہاں آئندہ سال اگر وہ آئیں تو انہیں اجازت دے دی جائے گی۔آپ ہماری طرف سے محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے کہیں کہ اس دفعہ وہ واپس چلے جائیں۔پھر اُنہوں نے حضرت عثمان سے کہا کہ ہم آپ کو اجازت دیتے ہیں آپ بے شک عمرہ کر لیں۔حضرت عثمان نے جواب دیا جب تک میرے آقا کو عمرہ کی اجازت نہیں ملے گی میں بھی عمرہ نہیں ہے کروں گا۔بہر حال لمبی گفتگو کی وجہ سے حضرت عثمان کو واپس آنے میں دیر ہو گئی اور کفار کے لشکر میں سے کسی شخص نے یہ مشہور کر دیا کہ عثمان شہید کر دیئے گئے ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ افواہ پہنچی تو آپ نے اعلان فرمایا کہ وہ مسلمان جو آج میرے ہاتھ پر موت کی بیعت کرنا چاہتے ہوں وہ جمع ہو جائیں۔اس آواز کا بلند ہونا تھا کہ صحابہ پروانوں کی طرح آپ کے گرد جمع ہو گئے۔آپ نے ایک مختصر سی تقریر کی اور فرمایا کہ کہا گیا ہے کہ عثمان شہید کر دیئے گئے ہیں۔ادنیٰ سے ادنی اقوام میں بھی سفیر کی عزت کی جاتی ہے اور اُسے مارا نہیں جاتا۔اگر یہ خبر درست ہے تو میں تم سے قسم لینا چاہتا ہوں کہ آج ہم مکہ پر حملہ کریں گے اور یا تو سارے کے سارے مارے جائیں گے اور یا مکہ کو فتح کر کے واپس لوٹیں گے۔آپ نے فرمایا وہی شخص آج بیعت کرے جو اپنے دل میں یہ عزم رکھتا ہو کہ یا تو وہ فتح حاصل کرے گا یا اسی میدان میں مارا جائے گا۔اُس وقت صحابہ بھاگے نہیں ، صحابہ ڈرے نہیں ، صحابہ کے رنگ زرد نہیں ہوئے۔ایک صحابی کہتے ہیں خدا کی قسم ! ہماری تلوار میں میانوں سے باہر نکل رہی تھیں تا کہ وہ شخص جو ہم سے پہلے بیعت کرنا چاہتا ہو اس کی گردن کاٹ دیں۔اُنہوں نے یہ نہیں کیا کہ وہ موت کو دیکھ کر بھاگنے لگ گئے ہوں۔بلکہ اُنہوں نے کہا کہ کسی اور کا کیا حق ہے کہ وہ ہم سے آگے مرنے کے لئے جائے۔عبد اللہ بن عمر نے جب کسی کے سامنے یہ بات بیان کی تو اُس نے پوچھا کہ آپ تو پہلے بیعت کرنے والوں میں سے ہوں گے۔حضرت عبد اللہ بن عمر نے ایک آہ بھری اور کہا خدا کی قسم! میں سب سے پہلے بیعت کرنے والوں میں سے ہوتا۔مگر میرے والد اُس وقت دور بیٹھے ہوئے تھے۔مجھے خیال پیدا ہوا کہ میرا اپنے باپ سے پہلے بیعت کر لینا اور اپنے باپ کو یہ موقع نہ دینا باپ سے بے انصافی ہوگی۔میں دوڑ کر اپنے باپ حضرت عمر کو بلانے چلا گیا اس لئے سب سے پہلے بیعت کرنے والوں سے پیچھے رہ گیا۔