خطبات محمود (جلد 28) — Page 435
خطبات محمود 435 سال 1947ء وہاں کے گردوغبار سے سخت پریشان ہوئیں کیونکہ گرسیوں پر مہینوں سے جو گرد پڑا ہوا تھا اُس کو بھی اُس کی روز جھاڑا نہیں گیا۔ہمارے ملک میں یہ مرض ہے کہ عورتیں اگر ماتم کی مجلس میں بھی جائیں تو وہ نئے کپڑے پہن کر جاتی ہیں۔غیر احمدی عورتیں جو اس جلسہ میں آئی ہوئی تھیں اور جنہوں نے ساڑھیاں وغیرہ پہن رکھی تھیں جب وہ اُٹھیں تو اُن کی ساڑھیاں گردو غبار سے آئی ہوئی تھیں اور انہوں نے اُسے بہت بُرا منایا۔پس جن اشخاص کے دل میں جذبہ خدمت ہو تو وہ اپنا نام لکھوا دیں تا کہ ہم ان کے سپرد ڈیوٹی کر دیں کہ جلسہ کے وقت سے پہلے وہ کرسیوں کو گردوغبار سے جھاڑ کر صاف کر دیں۔اس کے بعد میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ مشتاق احمد صاحب ایم۔ایس سی اگر یہاں ہوں تو جمعہ کی نماز کے بعد جس کے ساتھ عصر کی نماز بھی میں پڑھاؤں گا مجھے مل لیں۔مشتاق احمد صاحب ایم۔ایس سی قادیان والے میر قاسم علی صاحب مرحوم کے بچے۔مجھے ان سے ضروری کام ہے۔اس کے بعد میں جماعت کو تحریک جدید کی طرف پھر توجہ دلانا چاہتا ہوں۔تحریک جدید کے چندہ کا اعلان میں پچھلے جمعہ کر چکا ہوں اور کچھ لوگوں کو اس وقت تک اس میں شامل ہونے کی توفیق بھی مل چکی ہے۔لیکن بہت سی جماعت ایسی ہے جس کو ابھی توفیق نہیں ملی۔اس لئے نہیں کہ وہ سست ہے بلکہ اس لئے کہ جماعتیں اپنی اکٹھی فہرست مرتب کر کے بھجوایا کرتی ہیں۔میں پھر جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں جیسا کہ سابق میں قاعدہ رہا ہے اس چندہ کی تحریک کا آخری وقت 7 فروری ہوگا۔7 فروری تک جو وعدے آئیں گے وہ وقت کے اندر سمجھے جائیں گے۔مگر چونکہ گزشتہ ایام میں پنجاب پر بڑی بھاری آفت اور مصیبت آئی ہے اور ڈاک کا انتظام نہایت رڈی اور خراب ہے اس لئے مغربی پنجاب، سندھ اور نارتھ ویسٹرن فرنٹیئر پر اونس کے علاقہ کی میعاد سات اپریل ہوگی۔جو ہندوستان سے باہر کے ممالک ہیں اُن کی میعاد یکم جون تک ہو گی۔میں امید کرتا ہوں کہ دوست جلد سے جلد اپنے وعدوں کی فہرست مکمل کر کے بھجوانے کی کوشش کریں گے۔اس وقت تک سب سے زیادہ جوش قادیان کے مہاجرین نے ہی دکھایا ہے۔چنانچہ جتنی موعودہ رقم آئی ہے اُس کا نوے فیصدی قادیان کے وعدوں پر ہی مشتمل ہے۔اور جہاں تک میرا علم ہے یا میری یاد کام دیتی ہے لاہور کی جماعت کا غالبا اس وقت تک ایک کے سوا کوئی وعدہ نہیں آیا۔وہ وعدہ اختر صاحب کا ہے۔اُنہوں نے اُسی دن اپنا وعدہ لکھ کر