خطبات محمود (جلد 28) — Page 412
خطبات محمود 412 سال 1947ء جاری ہو چکا ہے اور جہاں پہلے درس دیا تھا اس کے اگلے حصہ سے اب درس شروع کرنا ہے لیکن جس طرح درمیان میں وقفہ پڑ جائے اور ایک دو دن گزر جائیں تو انسان بھول جاتا ہے کہ وہ کونسا رکوع تھا جس کا میں درس دے رہا تھا۔اسی طرح میں بھی بھول گیا ہوں کہ میں کو نسے رکوع کا درس دے رہا تھا۔اس وجہ سے میں کسی اور قرآن سے درس نہیں دے سکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ میرے قرآن پر درس کے مقام پر نشان رکھا ہوا تھا۔مگر اب چونکہ وہ قرآن مجھے ملا نہیں اس لئے جی کسی اور قرآن سے میں وہ مقام تلاش نہیں کر سکتا۔اُس وقت میں نے سوچا کہ درس کے اعلان کے بعد یہ مناسب معلوم نہیں ہوتا کہ میں درس نہ دوں۔اگر اس رکوع کا میں درس نہیں دے سکتا کسی اور رکوع کا ہی درس دے دوں۔اُس وقت کوئی خاص آیت میرے ذہن میں نہیں۔لیکن جس طرح یقظہ 1 میں میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے اس طرح میں سمجھتا ہوں کہ کوئی آیت کی بھی میرے سامنے آجائے گی تو میں درس دے دوں گا۔یہ خیال آتے ہی میرے دل میں آیا کہ میں کیوں نہ اس بات پر درس دوں کہ قرآن کریم کی تفسیر کس طرح کرنی چاہیے اور قرآن کریم کے صحیح مطالب سمجھنے کے لئے ہمارے پاس کونسا ذریعہ ہے۔یہ خیال آتے ہی میں نے کہا کہ میں آج حسب دستور گو درس نہیں دیتا کیونکہ وہ قرآن کریم جس پر میرے نوٹ ہیں اس وقت میر۔پاس نہیں اور مجھے معلوم نہیں کہ پہلا درس کہاں ختم ہوا ہے۔مگر آج میں اس بات پر درس دیتا ہوں کہ قرآن کریم کی تفسیر کن اصول پر کی جانی چاہیے۔اُس وقت جیسے عام سنت اللہ میرے ساتھ ہے میں یہ فقرے تو کہہ رہا ہوں مگر نہ مضمون میرے ذہن میں ہے اور نہ کوئی آیت میرے ذہن میں ہے۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ جب میں نے اس موضوع پر تقریر شروع کی تو خود بخود مضمون میرے سامنے آتا جائے گا آیت بھی میرے سامنے آ جائے گی۔عام طور پر جب میں بغیر نوٹوں کے تقریر کیا کرتا ہوں تو بسا اوقات دو چار فقرے کہنے تک مجھے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ میرا مضمون کیا ہے۔اُس وقت اچانک مضمون مجھ پر ظاہر کیا جاتا ہے اور میں تقریر شروع کر دیتا ہوں۔اس وقت بھی یہ تو ذہن میں آ گیا ہے کہ میں قرآن کریم کی تفسیر کے اصول بیان کروں مگر یہ کہ کن آیتوں سے یہ اصول مستنبط کروں گا یہ بات میرے ذہن میں نہیں۔جب میں نے کہا کہ میں قرآن کریم کی تفسیر کے اصول بیان کرنا چاہتا ہوں تو یکدم میری زبان پر ایک آیت جاری