خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 413

خطبات محمود 413 سال 1947ء ہوئی۔آج تک جاگتے ہوئے میں نے اس آیت سے کبھی یہ مضمون اخذ نہیں کیا اور نہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی بھر کبھی اس آیت سے وہ استدلال کیا ہو جو میں خواب میں کرتا ہوں۔بہر حال جب میں نے قرآن کریم کی تفسیر کے اصول بیان کرنے چاہے تو یکدم یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہوئے کہ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِى أَمْرٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَ إِلَى الرَّسُولِ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ۔اور میں نے کہا کہ قرآن کریم کی تفسیر کے بہترین اصول ان الفاظ میں بیان کئے گئے ہیں۔دراصل آیت ان الفاظ میں نہیں ہے بلکہ یوں ہے يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا الله وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِى شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ 2۔لیکن خواب میں میں اس طرح پڑھتا ہوں جس طرح اوپر بیان ہوا ہے۔خواب کے الفاظ میں شَيْءٍ کی جگہ اَمرِ ہے اور الرَّسُولِ کے بعد اُولِی الامر کے لفظ بھی ہیں۔ان الفاظ کی تبدیلی سے آیت کی تفسیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔کیونکہ شَيْءٍ اور آمر کے الفاظ کے معنی تو ایک ہیں مگر امر کے لفظ سے اس طرف اشارہ بھی ہے کہ اس آیت میں تفسیر قرآنی کی طرف اشارہ ہے۔اسی طرح اولی الامر کے الفاظ بڑھا کر اشارہ کیا ہے کہ آیت کے پہلے حصہ میں جو اُولِی الامر کے الفاظ ہیں وہ دوسرے حصہ میں بھی مراد ہیں۔صرف اختصار کے لئے حذف کر دیئے گئے ہیں۔جب کہ قرآن کریم کے کئی اور مقامات پر بھی کیا گیا ہے۔میں کہتا ہوں کہ تَنَازَعْتُمُ فی الامر کے معنی گود نیا وی تنازعہ کے بھی ہیں مگر ایک معنی اس کے اور بھی ہیں۔اور وہ یہ ہیں کہ امر کے معنی اس جگہ کلام الہی کے ہیں اور در حقیقت وہی اصل امر ہوتا ہے اور اسی کے ذریعہ بتایا جاتا ہے کہ انسان کن ذرائع سے دنیا میں ترقی حاصل کر سکتا اور کن ذرائع سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔پس تَنَازَعْتُمُ فِی الاَمْرِ کے معنی ہیں تَنَازَعْتُمُ فِى تَفْسِيرِ الْأَمْرِ۔تَنَازَعْتُمُ فِی مَعْنِی الْاَمْرِ یعنی جب تمہیں کسی آیت کا صحیح مفہوم معلوم کرنے میں شبہ ہو جائے ایک کہے اس کے یہ معنی ہیں اور دوسرا کہے اس کے یہ معنی ہیں تو فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ تم اس اختلاف کے وقت سب سے پہلے یہ کام کیا کرو کہ اس آیت کو خدا تعالیٰ کی طرف لے جاؤ کہ وہ اس کو حل کرے۔اور پھر میں اس کی تشریح کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ احادیث میں اس مفہوم کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ كَلَامُ اللهِ يُفَسِرُ بَعْضُهُ بَعْضًا - خدا تعالیٰ کے کلام کی بہ