خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 411

خطبات محمود 411 (42) سال 1947ء ہماری جماعت میں ایک شخص بھی نہ رہے جسے قرآن کریم نہ آتا ہو فرموده 21 نومبر 1947ء ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: کوئی تین دن کی بات ہے کہ میں نے ایک رؤیا دیکھا جس میں میں نے دیکھا کہ ایک میدان ہے اُسی طرز کا جس طرز کا یہ میدان ہے مگر اس سے بڑا۔اُس میدان میں کچھ دوست ہیں اور کوئی شخص غیر بھی شاید ہند و ملاقات کے لئے آیا ہوا ہے۔میں نے اُس وقت چاہا کہ قرآن شریف کا درس دوں۔چنانچہ میں نے اُس آنے والے سے کچھ باتیں کرنے کے بعد جو مجھے یاد نہیں رہیں درس دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ میں اب قرآن شریف کا درس دینا چاہتا ہوں۔یہ کہہ کر میں اُٹھا تا کہ میں اپنا وہ قرآن لے آؤں جس پر میرے نوٹ لکھے ہوئے ہیں۔ایک چھوٹی سی دیوار سے جس میں طاقچہ سا بنا ہوا ہے میں نے سمجھا کہ میرا قرآن وہاں پڑا ہو گا مگر جب میں نے دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہاں نہیں۔اس کے مقابل میں ایک اور دیوار ہے اور اس میں بھی طاقچے سے بنے ہوئے ہیں۔پھر میں نے وہاں دیکھنا شروع کیا مگر وہاں بھی کاغذات کو الٹ پلٹ کر دیکھنے سے معلوم ہوا کہ میرا قرآن وہاں نہیں۔اُس وقت مجھے پہلے تو یہ خیال آیا کہ میں گھر سے قرآن منگواؤں اور درس دے دوں مگر اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ میرے درس کا سلسلہ