خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 331

خطبات محمود 331 سال 1947ء ہائے اماں یا ہائے اتنا ! یہ کہتے ہیں کہ فُرْتُ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ کعبہ کے رب کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا تو مجھے حیرت آئی کہ یہ لوگ کیا کہتے ہیں؟ کیا موت میں کامیابی ہوا کرتی ہے؟ آخرمیں نے ایک شخص سے اس بارہ میں پوچھا۔اس نے کہا تم مسلمانوں کو نہیں جانتے۔یہ لوگ ایسے پاگل ہیں کہ ان کا خیال ہے جو شخص خدا کی راہ میں مارا جاتا ہے وہ سب سے زیادہ کامیاب ہوتا ہے۔چونکہ اس کے دل میں نیکی تھی وہ کہتا ہے میں نے جب یہ بات سنی تو سمجھا کہ اس میں ضرور کوئی راز ہے۔چنانچہ آہستہ آہستہ میں نے اسلام کی تحقیق کی۔اور میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا 8۔غرض یکے بعد دیگرے ان لوگوں نے موت کو قبول کیا اور موت میں ہی اپنی ساری کامیابی سمجھے۔یہی چیز تھی جس کی وجہ سے وہ قلیل ترین عرصہ میں ساری دنیا پر غالب آگئے اور ایسی شان سے غالب آئے کہ اس کی مثال پہلی کسی قوم میں نہیں ملتی۔پھر دیکھ لو مصائب کا یہ سلسلہ جلدی ختم نہیں ہو گیا بلکہ ایک لمبے عرصے تک جاری رہا۔خلافت قائم ہوئی تو حضرت عمر شہید ہوئے ، حضرت عثمان شہید ہوئے ، حضرت علی شہید ہوئے اور کربلا کے میدان میں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریباً سارا خاندان ہی شہید ہو گیا۔مگر کیا مسلمانوں کے دلوں میں اُس وقت شک پیدا ہوا کہ یہ کیسا سلسلہ ہے جس میں مصائب ہی مصائب کی آرہے ہیں؟ پھر کیا مسیح کے صلیب پر لٹکائے جانے کی وجہ سے اُن کے حواریوں کے ایمان متزلزل ہو گئے تھے؟ متزلزل نہیں ہوئے بلکہ اور بھی مضبوط ہوئے۔چنانچہ وہی حواری جس نے مسیح کی گرفتاری کے وقت یہ کہا تھا کہ میں نہیں جانتا مسیح کون ہے۔وہی کمزور ایمان والا حواری جب مسیح صلیب پر لٹکا دیا گیا تو وہی شخص جس نے صبح کی اذان سے پہلے تین دفعہ مسیح کا انکار کیا تھا اور اُس پر لعنت ڈالی تھی مسیح کا خلیفہ بنا اور آخر صلیب پر مسیح کا نعرہ لگاتے ہوئے اُس نے جان دے دی۔ނ یہ واقعات ہیں جو انبیاء اور ان کی جماعتوں کے ساتھ گزرے اور ان حالات میں۔ہماری جماعت کا گزرنا بھی ضروری تھا۔مگر ہماری جماعت کے بعض افراد کا یہ خیال تھا کہ ہم خدا تعالیٰ کے خاص لاڈلے ہیں۔وہ سلوک جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا اُس سے بھی اچھا تھی سلوک ہم سے ہوگا۔وہ سلوک جو موسی" سے ہوا ، وہ سلوک جو عیسی سے ہوا یا وہ سلوک جو ان کی بی جماعتوں سے ہوا اُس سے بھی بہتر سلوک ہم سے ہوگا۔اس لئے اب جو ابتلا ء آیا ہے تو میں دیکھتا