خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 332

خطبات محمود 332 سال 1947ء ہوں کہ بہت لوگوں کے دل ڈر رہے ہیں اور ان کے ایمان کی کمزوری ظاہر ہو رہی ہے اور کئی ہیں جو قادیان سے بھاگ رہے ہیں۔جہاں تک ان کے ایمان کا تعلق ہے ہم جانتے ہیں کہ ایسے ایمان والوں کی ایک رائی کے برابر بھی قیمت نہیں۔آخر یہ سیدھی بات ہے کہ اپنا خون بہائے بغیر ہم نے قادیان کو نہیں چھوڑنا۔اور یہ بھی سیدھی بات ہے کہ جب کوئی شخص احمدیت میں داخل ہوتا ہے تو وہ اس اقرار کے ساتھ داخل ہوتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جان دینے کے لئے تیار ہوں اور جب بھی مجھ سے اس چیز کا مطالبہ کیا جائے گا میں فوراً اس قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دوں گا۔اگر وہ جان دینے کے لئے تیار نہیں تھے تو اس جماعت میں داخل ہی کیوں ہوئے تھے۔کیا اس لئے کہ پلاؤ اور قورمہ ان کو کھانے کے لئے ملے گا؟ وہ اس لئے اس جماعت میں داخل ہوئے تھے کہ خدا کے لئے اپنی جانیں دیں گے اور اس راستہ سے اپنا قدم پیچھے نہیں ہٹائیں گے۔مگر آج جب جانیں دینے کا پہلا موقع آیا تو انہوں نے بھا گنا شروع کر دیا اور کئی ہیں جو اپنے بیٹوں اور بیویوں کو لے کر وہاں سے بھاگ آئے ہیں اور پھر اخلاص کا دعوی بھی کر رہے ہیں۔اور کئی ہیں جو اپنی اولادوں کو نکالنے کے لئے بیتاب ہیں۔جہاں تک ان کے ایمان کا تعلق ہے یہ ایک حقیقت ہے جس میں شک وشبہ کی ذرا بھی گنجائش نہیں کہ ان کے ایمان مٹی کے برابر بھی قیمت نہیں رکھتے۔پھر کئی ہیں جو اپنے اور رشتہ داروں کو نکالنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور کئی باہر کے ہیں جو وہاں جانے سے گھبرا رہے ہیں۔پھر وہاں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو بلا اجازت بھاگ آیا ہے۔ہم ایسے لوگوں کی لسٹیں تیار کر رہے ہیں۔بے شک ہمارے پاس حکومت نہیں کہ ہم ایسے لوگوں کو سزا دے سکیں اور نہ اس وقت میں انہیں سزا دینا چاہتا ہوں۔لیکن ان کے نام احمدیت کی تاریخ میں شائع کئے جائیں گے اور دنیا کو بتایا جائے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو وقت پر بھاگ آئے اور جنہوں نے انتہائی غداری اور بے ایمانی کا مظاہرہ کیا۔نظام کے ماتحت کسی کام کے لئے باہر آنا اور بات ہے۔ہم نے خود انتظام کیا ہے کہ قادیان کے لوگوں کو بھی کچھ آرام ملنا چاہیئے کیونکہ وہ بہت دیر سے کام کر رہے ہیں مگر ان کو بھی قرعہ سے باہر نکالا جائے گا۔اس نظام کے بغیر اگر کوئی شخص اِدھر اُدھر ہوتا ہے تو وہ یقینا اپنے بے ایمان ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔تم میں سے ہر شخص کس طرح یہ کہا کرتا تھا کہ ہم موسیٰ“ کی قوم نہیں جنہوں نے یہ کہا تھا