خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 330

خطبات محمود 330 سال 1947ء گئے۔اور اُن لوگوں کے ہاتھ میں اُنہیں بیچ دیا جن کے بعض آدمی مسلمانوں سے مارے گئے تھے۔ان میں سے ایک کو پھانسی دینے سے پہلے مکہ کے لوگوں نے پوچھا کہ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہاری جگہ پر یہاں ہوتے اور تم اپنے بیوی بچوں میں آرام سے مدینہ میں بیٹھے ہوتے ؟ اُس نے جواب دیا۔خدا کی قسم ! تم تو یہ کہتے ہو کہ میں مدینہ میں آرام سے بیٹھا ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں میری جگہ ہوں۔میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آرام سے بیٹھے ہوں اور ان کے پاؤں میں کانٹا تک مجھے 6۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ ایک قبیلہ کا رئیس آیا اور اس نے کہا کہ میری قوم اسلام لانے کے لئے تیار ہے۔آپ میرے ساتھ کچھ آدمی بھجوا دیں۔وہ تو اپنی اِس بات میں سچا تھا اور بعد میں ایمان بھی لے آیا۔مگر اس کی قوم نے غداری کی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس پر اعتبار کرتے ہوئے 70 حفاظ کا قافلہ اُس کی قوم کی طرف روانہ کر دیا۔جب وہ اس قبیلہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے اس رئیس کے بھتیجے کے پاس ایک آدمی کے ذریعہ پیغام بھجوا دیا کہ ہم لوگ آگئے ہیں۔اب ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا کیا کام ہو گا ؟ اس نے ان کے سردار کو بلوایا اور جب وہ ان سے باتیں کر رہا تھا اُس رئیس کو اشارہ کیا جس نے پیچھے سے اُس صحابی کی گردن میں نیزہ مارا اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔جب اُسے نیزہ لگا تو تاریخ میں لکھا ہے کہ اس نے نعرہ لگایا اور کہا فُرتُ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ 7 مجھے کعبہ کے رب کی قسم ! میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا۔پھر وہ اکٹھے ہو کر تمام صحابہ پر حملہ آور ہو گئے۔انہی لوگوں میں حضرت ابو بکر کے وہ غلام بھی تھے جو ہجرت کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔جب ہزاروں آدمیوں کے ہجوم نے ان 70 صحابہ پر حملہ کر دیا تو یہ لازمی بات تھی کہ انہوں نے مارا جانا تھا۔چنانچہ وہ سارے کے سارے وہیں قتل ہو گئے اور ان میں سے کسی نے بھی ہتھیار پھینکنے کی حرکت نہیں کی۔یکے بعد دیگرے جب وہ لوگ مرتے یا کسی کو خنجر لگتا یا تلوار سے کسی کا سرکتا تو یہی الفاظ اُس کی زبان پر ہوتے کہ فُزُتُ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ - خدا کی قسم ! میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا۔ایک شخص کہتا ہے کہ میں اسلام سے واقف نہیں تھا۔میں باہر سے آیا تھا اور قبیلہ والوں کے ساتھ مل کر لڑائی میں شامل ہو گیا۔میں نے جب دیکھا کہ یہ لوگ مرتے وقت بجائے یہ کہنے کے کہ