خطبات محمود (جلد 28) — Page 299
خطبات محمود 299 سال 1947ء روتا دیکھا تو ہم نے کہا اسے کیا ہو گیا ہے اور یہ روتا کس لئے ہے؟ خدا کا کوئی بندہ تھا جسے یہ اختیار دیا گیا کہ وہ چاہے تو دنیا میں رہے اور چاہے تو خدا کے پاس چلا جائے اس میں رونے کی کونسی بات ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے تیسرے دن بیمار ہوئے اور چند دن کے بعد وفات پاگئے۔صحابہ کہتے ہیں کہ اُس وقت ہماری سمجھ میں آیا کہ ابو بکر کیوں روتے تھے۔اور ہمیں خیال آیا کہ ابو بکڑ نے تو بات سمجھ لی تھی مگر ہم نے نہ کبھی۔تو سچے مومن کو خدا تعالیٰ کے پاس جانے ہے میں کوئی عذر نہیں ہوتا۔وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ جہاں تک اُس کی طاقت ہے خدا اور اُس کے رسول اور اُس کے دین کا نام نیچا نہ ہو۔ورنہ ایک مومن کے لئے شہادت سب سے زیادہ قیمتی چیز ہوتی ہے۔حضرت خالد بن ولید بیمار ہوئے تو اُن سے ایک دوست ملنے کے لئے آیا۔اُس نے دیکھا کہ خالد رور ہے ہیں۔اُس دوست نے کہا خالد! یہ رونے کا کونسا مقام ہے؟ تمہیں اللہ تعالیٰ نے بہت سی خدمات کا موقع عطا فرمایا ہے ، اب تمہیں خوشی ہونی چاہیئے کہ تم اپنے محبوب سے ملنے اور اُس سے انعام پانے کے لئے جار ہے ہو۔اس پر خالد اور بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور انہوں نے کہا میں اس لئے تو نہیں روتا کہ میں کیوں مر رہا ہوں۔چونکہ بیماری کی وجہ سے وہ بہت کمزور ہو چکے تھے اُنہوں نے اپنے دوست سے کہا میرے قریب آؤ اور میرے بازوؤں پر سے کپڑا اُٹھاؤ اور دیکھو کہ کیا کوئی جگہ ایسی ہے جہاں تلوار کا نشان نہ ہو؟ اُس نے کپڑا اٹھایا اور کہا کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں تلوار کا نشان نہ ہو۔انہوں نے کہا اب میری ٹانگوں پر سے کپڑا اٹھاؤ اور دیکھو کہ کیا میری ٹانگوں پر کوئی ایک انچ جگہ بھی ایسی ہے جہاں تلواروں سے نشان نہ ہو؟ اُس نے کپڑا اٹھایا اور کہا کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں تلواروں کے نشان نہ ہوں۔اس کے بعد انہوں نے پیٹ دکھایا ، پیٹھ دکھائی ، سر دکھایا اور پھر کہا میرے سر سے پاؤں تک کوئی ایک انچ بھی ایسی جگہ نہیں جہاں تلوار سے نشان نہ ہوں۔میں نے ہر جنگ میں اپنے آپ کو ایسے مقام پر پھینکا جہاں میرا خیال تھا کہ مجھے شہادت نصیب ہو سکتی ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ تم خود اپنی آنکھوں۔دیکھ چکے ہو کہ کس طرح میرے سر سے پیر تک تلواروں کے نشانات لگے ہوئے ہیں۔اتنا کہہ کر انہیں پھر جوش گر یہ پیدا ہوا اور اُن کی ہچکی بندھ گئی۔اِس دوران میں اُنہوں نے روتے ہوئے کہا میں اس لئے نہیں روتا کہ میں کیوں مر رہا ہوں۔بلکہ اس لئے رورہا ہوں کہ نہ معلوم میرا کونسا