خطبات محمود (جلد 28) — Page 300
خطبات محمود 300 سال 1947ء گناہ تھا جس کی پاداش میں میں آج چار پائی پر جان دے رہا ہوں۔شہادت کا انعام مجھے میسر نہیں آیا۔میں نے شہادت کا مقام حاصل کرنے کے لئے ہر خطر ناک سے خطر ناک موقع پر اپنے آپ کو پھینکا مگر مجھے پھر بھی شہادت نصیب نہیں ہوئی۔پس مجھے یہ صدمہ ہے کہ شاید میری کسی کمزوری کی وجہ سے یہ انعام مجھے نہیں ملا 8۔خالد اپنے اخلاص میں یہ سمجھتے تھے کہ وہ شہادت سے محروم رہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اور لوگ تو ایک ایک دفعہ شہید ہوئے اور خالہ سینکڑوں دفعہ شہید ہوئے۔جس شخص کو خدا زیادہ شہادتوں کا ثواب دینا چاہتا ہے اُسے موت کے منہ میں ڈال کر پھر نکال لیتا ہے۔پھر ڈالتا اور پھر نکالتا ہے تا کہ اُسے کئی شہادتوں کا ثواب دیا جا سکے۔پس موت ڈرنے والی چیز نہیں ہاں مومن ایسی طرز پر کام کرتا ہے کہ وہ نہ ظالم بنے اور نہ بے انصاف قرار پائے۔نہ دین کو نقصان پہنچائے اور نہ دنیوی تدابیر کو ہاتھ سے جانے دے۔وہ تدبر اور عقل اور ہمت اور حوصلہ کے ساتھ کام کرتا ہے۔وہ اس طرح کام نہیں کرتا کہ سور کی طرح سیدھا چلا جائے اور مارا جائے۔وہ ایک عقلمند اور دوراندیش انسان کی طرح چاروں طرف اپنی نگاہ دوڑاتا ہے۔وہ عقل اور تدبر کو ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔اور پھر اگر مارا جاتا ہے تو اُس کی قربانی اسلام کے لئے باعث فخر ہوتی ہے۔اور اگر وہ بیچ رہتا ہے تو اُس کی عقل اور اُس کی خرد اور اُس کی دانائی اسلام کے لئے باعث فخر ہوتی اور اس کی ترقی کا باعث بنتی ہے۔اُس کی دونوں حالتیں برکت والی ہوتی ہیں۔اُس کی موت بھی برکت کا موجب ہوتی ہے اور اُس کی فتح بھی برکت کا موجب ہوتی ہے۔سو تم حوصلے مت ہار و اور بھگوڑوں میں سے مت بنو۔ہاں اگر تم اس لئے ایک مقام چھوڑتے ہو کہ پھر دوبارہ اپنے آپ کو منظم کر کے اُس مقام میں آؤ گے تو تم بھگوڑے قرار نہیں دیئے جاسکتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اُحد کی جنگ میں جب یہ خبر مشہور ہوگئی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں تو اس اچانک صدمہ اور دشمن سے دباؤ کی وجہ سے بعض صحابہ میدانِ جنگ سے بھاگ پڑے اور بھاگتے ہوئے مدینہ تک آپہنچے۔اس کے بعد باقی لشکر اکٹھا ہوا اور دشمن میدان چھوڑ گیا۔جب اسلامی لشکر مدینہ میں واپس آیا تو اُس کے افراد ان لوگوں کو جو اُحد سے بھاگ آئے تھے فَرَّارُونَ کہتے تھے۔یعنی بھگوڑے جو میدانِ جنگ سے بھاگ آئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ سنا تو چونکہ وہ وه