خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 298

خطبات محمود 298 سال 1947ء جھنڈا نیچا نہیں ہونے دیں گے۔ہمارے ارد گر د سو سے زیادہ گاؤں اس وقت مٹ چکا ہے۔باقی تمام گورداسپور ختم ہو چکا ہے اور بظاہر یہ ناممکن نظر آتا ہے کہ ہم اس علاقہ میں اسلامی جھنڈا اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ گاڑ سکیں۔کسی طرف سومیل، کسی طرف دوسو میل اور کسی طرف پچاس پچاس میل تک کوئی مسلمان گاؤں نظر نہیں آتا۔اور بظاہر انسانی تدبیر سے دشمن پر غالب آنا ناممکن معلوم ہوتا ہے۔لیکن اگر فتح اور غلبہ ہماری طاقت میں نہیں تو ایک چیز ہے جو خدا نے ہمیں بخش دی ہے اور جس کی ہمارے اندر طاقت ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اُس کی راہ میں مر جائیں۔جو چیز خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ہمیں اُس کی فکر نہیں کرنی چاہیئے۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اپنا کام کریں۔خدا تعالیٰ کا کام اپنے ہاتھ میں لینا بیوقوفی ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص اس شرط پر لڑتا ہے کہ پہلے مجھے فتح کا یقین دلاؤ۔تو وہ اپنی حماقت کا آپ اعلان کرتا ہے۔اُس کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر دے۔پھر اگر وہ چاہے تو اس جان کو واپس کر دے تا کہ وہ کچھ مدت اور کام کر لے۔اور اگر چاہے تو اُسے اپنے پاس بُلا لے اور کہے کہ تم نے بہت خدمت کر لی ہےاب ہمارے پاس آجاؤ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب وفات نزدیک آئی تو فرشتہ آپ کے پاس آیا اور اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ آپ کے حبیب نے مجھے ایک پیغام دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے میرے لئے بہت کو فتیں اٹھائی ہیں۔اب میں آپ کو اختیار دیتا ہوں کہ آپ چاہیں تو کچھ مدت اور کام کر لیں اور چاہیں تو میرے پاس آجائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل سے کہا کہ میں اگر اس دنیا میں تھا تو محض خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت۔اور اگر اب خدا نے مجھے وہاں آنے کی اجازت دی ہے تو میرے لئے اس سے زیادہ خوشی کی اور کونسی بات ہوتی سکتی ہے۔میں وہیں آنا چاہتا ہوں مجھے دُنیا میں رہنے کی خواہش نہیں۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو اکٹھا کیا اور بغیر اپنا نام لئے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا کوئی بندہ تھا جس کے سامنے اللہ تعالیٰ نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر تم چاہو تو دنیا میں رہ کر اور کام کر لو اور اگر چا ہو تو میرے پاس آجاؤ۔اُس بندہ نے دنیا میں رہنا پسند نہیں کیا بلکہ یہی چاہا کہ وہ خدا تعالیٰ کے پاس چلا جائے۔حضرت ابو بکر نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے یہ بات سنی تو جی وہ رو پڑے اور اتنا روئے کہ اُن کی ہچکی بندھ گئی۔بعض صحابہ کہتے ہیں ہم نے حضرت ابو بکر کو