خطبات محمود (جلد 28) — Page 268
خطبات محمود 268 سال 1947ء کہ موت کو سامنے کھڑے دیکھ کر بھی وہ اپنے فرض کی ادائیگی سے نہ رُکا۔ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ اُس کی یہ جرات اور بہادری اُس کے ماحول کی وجہ سے تھی۔وہ ایک ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہے تھا جو لڑائیاں لڑتی رہتی تھی۔یہ جرات اور یہ حوصلہ امن میں رہنے والوں کے اندر کہاں آ سکتا ہے۔امن میں رہنے والا تو ذرا سا کھٹکا دیکھ کر ہی بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔مگر یا د رکھنا چاہیئے کہ دنیا میں دشمن کے مقابلہ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانے سے زیادہ بزدلی اور کمزوری اور کوئی نہیں۔بھاگتے ہوئے دشمن کی طرف پیٹھ ہوتی ہے اور دیکھنے والی چیز آنکھ ہوتی ہے۔دنیا میں کوئی انسانی ایسا نہیں جو سر کی گدی سے دیکھتا ہو۔ہر شخص آنکھ ہی سے دیکھتا ہے۔اور دشمن سے مقابلہ کے وقت بھی اُسے آنکھ ہی سے دیکھا جا سکتا ہے نہ کہ پیٹھ پھیر کر سر کی گدی سے۔اس لئے اگر کوئی شخص دشمن کے مقابلہ میں پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ جس طرف اُسے منہ کرنا چاہیئے تھا اُدھر وہ پیٹھ پھیر دیتا ہے۔اور جس طرف اُسے پیٹھ رکھنی چاہئے تھی اُس طرف وہ منہ کر لیتا ہے۔حالانکہ دشمن کے مقابلہ کے وقت بھاگنا ہی ہلاکت کا موجب ہوا کرتا ہے اور بھاگنے میں سو فیصدی موت ہوتی ہے۔مقابلہ کی صورت میں تو زیادہ سے زیادہ پچاس فیصدی موت کا خدشہ ہوتا ہے۔کیونکہ اس صورت میں یہ بھی ممکن ہوتا ہے کہ اُس کا دشمن غالب۔آ جائے۔اور یہ بھی ممکن ہوتا ہے کہ یہ دشمن پر غالب آجائے۔لیکن بھاگ جانے میں تو دشمن پر غالب آجانے کا ایک فیصدی امکان بھی نہیں ہوتا۔پس جس طرح ایک مومن کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں صلح اور امن سے زندگی بسر کرے۔اسی طرح اُس پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ دشمن سے مقابلہ ہو جانے کی صورت میں کبھی پیٹھ نہ دکھائے۔مومن کو ہر بات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ ہونا چاہیئے۔پس ہمیں اس وقت ایسا نمونہ دکھانا چاہیئے کہ دشمن بھی ہمارے اس نیک نمونہ کا معترف ہو جائے۔قو میں عام طور پر جنگ کے ایام میں دشمنی کی حدود سے گزر کر کمینگی اختیار کر لیا کرتی ہیں۔مگر مومنوں کے پیش نظر ہر وقت یہ بات ہونی چاہیئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب تم دشمنی کرو تو ایک حد کے اندر کرو۔اور جب تم دوستی کرو تو بھی ایک حد کے اندر کرو۔1 یعنی یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ دشمن کی کمینہ حرکات کے جواب میں تم بھی کمینگی اختیار کر لو۔بلکہ تمہیں چاہیئے کہ