خطبات محمود (جلد 28) — Page 267
خطبات محمود 267 سال 1947ء سے ان باتوں کو بُھول جاتے ہیں۔جن قوموں کو لڑائیاں لڑنی پڑتی ہیں اُن کو یہ باتیں یاد ہوتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اُن کی نظروں میں زندگی اور موت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔وہ موت کو ایک کھیل سے زیادہ وقعت نہیں دیتیں۔افغانستان کا ایک باشندہ یا سرحد کا ایک باشندہ بالکل ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے ہاں کا ایک باشندہ۔لیکن ہمارے ہاں تو یہ حال ہے کہ ادھر رات کو چوکیدار شہروں اور گاؤں میں جاگ جاگ کر پہرہ دے رہے ہوتے ہیں اور ادھر پولیس پہروں پر متعین ہوتی ہے ہے۔لیکن افغانستان اور سرحد کے علاقوں میں نہ کوئی چوکیدار ہوتا ہے اور نہ ہی پولیس ہوتی ہے۔اگر وہاں کسی شخص کی کوئی چیز چوری ہو جاتی ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ چیز میں نے خود ہی نکلوانی ہے۔اور دوسرے لوگ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اس کی چوری شدہ چیز کی واپسی میں اسکی مدد نہ کی تو یہ ہماری مدد نہ کرے گا۔اسی طرح وہاں جتھے اور پارٹیاں بن جاتی ہیں جو اپنے آپ کو منظم کر لیتی ہیں۔یورپین قو میں جو حا کم ہیں اُن کا بھی یہی حال ہے۔اُن کی نظریں ہر وقت مملکت کی وسعت کی طرف لگی رہتی ہیں۔اور اس وسعتِ نگاہ کی وجہ سے اور ساتھ ہی اپنے دماغوں میں یہ نقشہ جماتے ہوئے کہ اگر ہماری مملکت میں بہت زیادہ پھیلاؤ ہو گیا تو ہمیں خوراک اچھی ملے گی اور تنخواہیں بھی زیادہ ملیں گی وہ قومیں اپنی حکومتوں کو مدد دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتی ہیں اور ی گورنمنٹ کا ہاتھ بٹانے میں کبھی پس و پیش نہیں کرتیں۔اُن قوموں کے افراد اپنی حکومتوں کی بہبودی اور اُن کے مال و متاع کی حفاظت کی خاطر بڑی سے بڑی قربانیاں کر گزرتے ہیں۔مثلاً تجارت کا مال جہازوں میں لاتے وقت اگر دشمن حملہ کر دے تو بسا اوقات اس قسم کے واقعات دیکھنے اور سننے میں آتے ہیں کہ دشمن متواتر توپوں کے گولے برسا رہا ہے، ادھر سے اس جہاز کا تو بچی بھی دشمن کے جواب میں گولے پھینک رہا ہے حتی کہ دشمن کی بے پناہ گولہ باری کی وجہ سے ان کا جہاز ڈوبنا شروع ہو گیا ہے۔اب جہاز ڈوبا جارہا ہے، لوگ اپنی جانیں بچانے کے لئے کشتیوں میں بیٹھتے جارہے ہیں اور صاف نظر آ رہا ہے کہ چند منٹوں کے اندر اندر جہاز تہہ آب ہو جائے گا۔لیکن جہاز کا تو بیچی برابر اپنے فرض کو ادا کرتے ہوئے اپنے دشمن پر گولے برسا رہا ہے۔حتی کہ اس کے آخری گولے کے ساتھ ہی جہاز غرق ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی تو بچی بھی سمندر کی لہروں میں گم ہو جاتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اُس تو بچی کے اندر اتنی جرات اور دلیری کہاں سے آ گئی