خطبات محمود (جلد 28) — Page 269
خطبات محمود 269 سال 1947ء اخلاق فاضلہ سے کام لو۔پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس ظلم اور نا انصافی کے موقع پر اپنے جذبات کو پوری طرح قابو میں رکھو۔اور کسی حالت میں بھی رحم اور انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو۔اگر تم دشمن کے ساتھ رحم اور انصاف کے ساتھ پیش آؤ گے تو اس صورت میں خدا تعالیٰ بھی تمہیں مل جائے گا اور بندے بھی۔مگر ظلم اور بے انصافی کی صورت میں نہ تو خدا تمہیں مل سکتا ہے اور نہ ہی بندے۔اگر دشمن تم پر حملہ کر دے تو تمہارا اپنے بچاؤ اور دفاع کی خاطر اُس کے ساتھ لڑنا نا جائز نہیں کہلا سکتا۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ تمہارے بچاؤ کو کوئی اور معنوں میں لیتا پھرے۔جیسے کہتے ہیں ایک بھیڑیا ندی میں سے پانی پی رہا تھا۔اُس نے دیکھا کہ پانی کے بہاؤ کی طرف بھیڑ کا ایک چھوٹا سا بچہ بھی پانی پی رہا ہے۔بھیڑ کے بچے کو دیکھ کر بھیڑیے کے منہ میں پانی بھر آیا۔وہ اُس کے پاس پہنچا اور کڑک کر کہنے لگا۔او نالائق ! تجھے شرم نہیں آتی کہ میں پانی پی رہا تھا اور تو پانی کو گدلا کر رہا تھا۔بھیڑ کے بچے نے کہا میں تو پانی کے بہاؤ کی طرف پانی پی رہا تھا۔آپ کے پینے کا پانی کیسے گدلا ہو گیا ؟ بھیڑ یا یہ سن کر طیش میں آگیا اور کہنے لگا تجھے شرم نہیں آتی کہ ایک تو تو نے قصور کیا ہے اور پھر گستاخی کرتا ہے۔یہ کہہ کر وہ بھیڑ کے بچے پر جھپٹا اور اُسے چیر پھاڑ کر کھا گیا۔پس اگر ہمارے ساتھ بھی یہی حال ہو تو اور بات ہے۔ور نہ کوئی انصاف پسند یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب دشمن نے تم پر حملہ کیا تھا تو تم نے بچاؤ کیوں کیا۔اگر کوئی ایسا کہے گا تو وہ خود ذلیل ہو گا۔ہاں اگر کوئی جھوٹی کہانی ہمارے خلاف بنالی جائے تو اور بات ہے۔پس میں دوستوں کو خاص طور پر اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ محبت، پیار اور صلح کو کسی حالت میں بھی ہاتھ سے نہ جانے دو تا کہ جب ہم خدا تعالیٰ کے حضور جائیں تو پاک اور صاف دل لے کر جائیں۔اپنے دلوں کو بغضوں اور کینوں سے پاک کر دو۔اور محبت ،صلح اور ساتھ ہی بہادری اور جوانمردی کو اپنا شعار بناؤ۔کیونکہ ایک مومن جہاں امن پسند اور صلح جو ہوتا ہے وہاں مومن سے بڑھ کر دلیر اور بہادر بھی کوئی نہیں ہوتا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک عام مومن دشمن کے دو افراد پر بھاری ہوتا ہے 2۔اس سے اعلیٰ ایمان والا دشمن کے دس افراد پر بھاری ہوتا ہے 3 مگر ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیوض حاصل کئے تھے جنگوں کے زمانہ میں اُن میں سے ایک ایک نے دشمن کے سوسوی