خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 217

خطبات محمود 217 سال 1947ء بلند مقام کی طرف پرواز کریں گے۔جہاں تک کام کرنے کا تعلق ہے مولوی صاحب میں کام کرنے کی انتہائی خواہش تھی۔لیکن تنظیم کے معاملہ میں وہ زیادہ کامیاب نہ تھے۔ہاں ایک کام ہے جو ان کے سپرد ہوا اور اُنہوں نے اُس میں کمال کر دیا۔اور وہ کام اُن کی ہمیشہ یاد گار رہے گا۔جس طرح لنگر خانہ اور دار الشیوخ میر محمد اسحاق صاحب کے ممنونِ احسان ہیں اسی طرح وصیت کا انتظام مولوی سید سرور صاحب کا ممنونِ احسان ہے۔مولوی صاحب نے جس وقت وصیت کا کام سنبھالا ہے اُس وقت بمشکل وصیت کی آمد پچاس ساٹھ ہزارتھی مگر مولوی صاحب نے اس کام کو ایسے احسن طور پر ترقی دی کہ اب وصیت کی آمد پانچ لاکھ روپیہ سالانہ تک پہنچ گئی۔آپ کو وصیت کے کام میں اس قدر شغف تھا کہ آپ بہت جوش و خروش کے ساتھ اس کام کو سر انجام دیتے تھے کیونکہ نظام وصیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قائم کردہ ہے اور آپ نہیں چاہتے تھے کہ اس میں کوئی کمزوری واقع ہو جائے۔یہ آپ کی ہی محنت اور کوشش کا نتیجہ ہے کہ اب ہمارے چندہ عام سے چندہ وصیت زیادہ ہے۔یہ کام ہمیشہ کے لئے آپ کی یادگار رہے گا۔مجھے افسوس ہے کہ مولوی صاحب کے بچوں میں سے کسی نے علیم دین میں وہ مقام حاصل نہیں کیا جو اُنہیں حاصل تھا۔اسی طرح تعلیم میں بھی وہ مولوی صاحب کے مقام کو حاصل نہیں کر سکے۔لیکن اگر انسان کو کسی چیز کے حاصل کرنے کا فکر لاحق ہو جائے تو اس کے لئے مواقع ہر وقت میسر آ سکتے ہیں۔یورپ کے ایک ستر سالہ بوڑھے نے لاطینی زبان سیکھی اور اُس کے بعد اُس نے کتابیں لکھیں۔اسی طرح اگر مولوی صاحب کی اولاد میں یہ احساس پیدا ہو جائے تو ی وہ ہر وقت اُن علوم کو حاصل کر سکتے ہیں۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ وہ علوم کی طرف توجہ کریں۔بہر حال مولوی صاحب کی وفات سے جماعت کا ایک بہت بڑا نقصان ہوا ہے اور اُن کی اولاد کا تو دوہرا نقصان ہے۔بلحاظ اولا د ہونے کے بھی اور بلحاظ احمدی ہونے کے بھی اُن کو دُہرا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔مولوی صاحب باوجود 84 سال عمر پانے کے آخری دم تک کام کرتے رہے۔اور نہ عام طور پر لوگ پچاس ساٹھ سال کی عمر میں ہی ناکارہ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ایسے انسان شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں جو اس عمر تک کام کرتے رہتے ہیں ورنہ بالعموم لوگ پچاس ساٹھ سال کی عمر میں ہی کام کاج چھوڑ بیٹھتے ہیں اور بہت سے لوگ تو مولوی صاحب کی عمر کو پہنچتے ہی نہیں۔حمد الفضل میں ایک مضمون چھپا ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی عمر 92 سال کی تھی۔