خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 216

خطبات محمود 216 سال 1947ء ہوتے تھے۔حتی کہ وفات سے صرف دورات پہلے وہ مجلس میں آئے اور بیٹھے رہے۔اُن کو مجلس میں ہی بیہوشی شروع ہوگئی۔اور میں نے دیکھا کہ مولوی صاحب بیٹھے ہوئے بینچ پر چھکے جا رہے ہیں۔میں نے اُن کے بعض شاگردوں سے کہا مولوی صاحب بیمار معلوم ہوتے ہیں اُن کا خیال رکھنا۔اُسی دن سے آپ پر بیہوشی طاری ہوئی اور آپ تیسرے دن فوت ہو گئے۔ایسے عالم کی زندگی نو جوان علماء کے لئے بہت ہی کارآمد تھی۔نوجوان علماء کی وہ نگرانی کرتے تھے اور نوجوان علماء ان سے اپنی ضرورت کے مطابق مسائل پوچھ لیتے تھے۔مجھے کئی سال سے یہ فکر تھا کہ جماعت کے پرانے علماء اب ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ یکدم جماعت کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑے اور جماعت کا علمی معیار قائم نہ رہ سکے۔چنانچہ اس کے لئے میں نے آج سے تین چار سال قبل نئے علماء کی تیاری کی کوشش شروع کر دی تھی۔کچھ نو جوان تو میں نے مولوی صاحب سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے مولوی صاحب کے ساتھ لگا دیے اور کچھ نو جوان باہر بھجوا دئیے تاکہ وہ دیو بند وغیرہ کے علماء سے ظاہری علوم سیکھ آئیں۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت کی بات ہے کہ ان علماء کو واپس آئے صرف ایک ہفتہ ہواتی ہے۔جب وہ واپس آگئے تو مولوی صاحب فوت ہو گئے۔گویا اللہ تعالیٰ نے اُن کو اُس وقت کی تک وفات نہیں دی جب تک کہ علم حاصل کر کے ہمارے نئے علماء واپس نہیں آگئے۔اتنی دیر تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو زندہ رکھا تا کہ یہ ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلے کی تائید و نصرت کرتا ہے اور خود اس کا قائم کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اُس دن تک ہماری جماعت کے ایک چوٹی کے عالم کو فوت نہیں ہونے دیا جب تک کہ نئے علماء کی بنیاد نہیں رکھی گئی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ نوجوان ابھی اس مرتبہ کو نہیں پہنچے لیکن وہ جوں جوں علمی میدان میں قدم رکھیں گے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں گے اتنا ہی وہ ان علماء کے قائم مقام ہوتے جائیں گے۔مولوی صاحب جب کالج سے فارغ ہو کر آئے تھے اُس وقت اُن کی اور حالت تھی۔اور جب انہوں نے یہاں آکر لمبی لمبی دعائیں کیں اور روحانیت سے اپنا حصہ لیا تو وہ بالکل بدل گئے اور ایک نیا وجود بن گئے۔اسی طرح ہمارے نو جوانوں کو علم تو حاصل ہو گیا ہے مگر اب وہ جتنا جتنار وحانیت کے میدان میں بڑھیں گے اور اپنے تقویٰ اور نیکی کو ترقی دیں گے اتنا ہی وہ ہے