خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 158

خطبات محمود 158 سال 1947ء کی وجہ سے اُن کے لئے وعدوں کا پورا کرنا مشکل نہ ہو جائے۔اسی طرح بچوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے والدین سے کم سے کم مطالبات کریں تا کہ اُن کے والدین آسانی کے ساتھ اپنے وعدوں کو پورا کر سکیں۔دنیا میں کونسا ایسا شخص ہے جو کہ ساری کی ساری آمد اپنے اوپر خرچ کرتا ہے۔ہر آدمی کی آمد کا اکثر حصہ دوسروں پر خرچ ہوتا ہے۔جو لوگ نیک اور متقی ہوتے ہیں وہ اپنے بیوی بچوں اور اپنے والدین کی خدمت کے لئے خرچ کرتے ہیں۔اور جو لوگ عیاش ہوتے ہیں وہ بُری جگہوں میں روپیہ کو خرچ کر دیتے ہیں۔بہر حال اپنی ذات پر جو روپیہ خرچ ہوتا ہے وہ بہت کم ہوتا ہے اور اگر مرد اپنے نفس پر بوجھ ڈالے بھی تو کیا بچا سکتا ہے جب تک اس کے ساتھ اس کے بیوی بچے اس معاملہ میں اس کی مدد نہ کریں۔اگر بیوی بچے تعاون نہ کریں تو پھر مرد کے لئے قربانی کرنا اور بھی زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔پس میں اس موقع پر ہر عورت اور ہر بچے سے یہ درخواست کرونگا کہ وہ سلسلہ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مطالبات کو کم کر دے۔ہماری جماعت کا ہر بچہ اور ہر عورت اس جذبہ ایمانی سے سرشار ہے کہ ہم مومن ہیں اور ہم جان مال ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہیں۔ان کے لئے ثواب کمانے کا اب موقع پیدا ہو گیا ہے۔کئی بچوں نے مجھے لکھا ہے کہ کاش! ہمارے پاس کچھ ہوتا تو ہم بھی قربانی میں شامل ہوتے۔میں ان سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری خواہش کے مطابق تمہارے لئے بھی قربانی میں شریک ہونے کا موقع پیدا کر دیا ہے۔وہ اس طرح کہ تم اپنے مطالبات کم کر دو تا کہ تمہارے ماں باپ آسانی کے ساتھ اس تحریک میں حصہ لے سکیں۔اسی طرح ہر عورت کو چاہیئے کہ وہ اپنے مطالبات جتنے کم کر سکتی ہے کرے تا کہ اس کا خاوند بہادری کے ساتھ قربانی پیش کر سکے۔اگر عورتیں اور بچے اس طرح اپنے مطالبات کم کر دینگے تو وہ بھی مردوں کے ساتھ ثواب میں شامل ہونگے۔کیونکہ عورتوں اور بچوں کی قربانی کی وجہ سے مردوں کو زیادہ قربانی کرنے کی توفیق ملے گی۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا ہم تبلیغ کے کام کو کسی طرح نظر انداز نہیں کر سکتے۔ہمارے مبلغ ہزاروں ہزار میل پر بیٹھے ہوئے نہایت جانفشانی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ہم اتنی دور بیٹھے ان کی قربانیوں کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتے۔ایک مبلغ کی قربانی کا معیار یہ نہیں کہ اس نے کتنے آدمی احمدی کئے ہیں۔اس کی کوششوں کا اندازہ بیعتوں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ایک ایسے وسیع