خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 159

خطبات محمود 159 سال 1947ء ملک میں جہاں کروڑوں کی آبادی ہو پانچ چھ مبلغ کیا کر سکتے ہیں۔ہزاروں ہزار میل کے ممالک میں جہاں کروڑوں کی آبادی ہے پانچ سات آدمی کیا شور پیدا کر سکتے ہیں۔پانچ سات آدمی تو پر ایک شہر میں بھی شور پیدا نہیں کر سکتے کجا یہ کہ ایک بہت بڑا وسیع ملک ان کے سامنے ہو۔پس ہم ان کی کوششوں کا اندازہ اس رنگ میں نہیں لگا سکتے کہ انہوں نے سال بھر میں کتنے احمدی بنائے کی بلکہ وہ فضا اور وہ اثر جو احمدیت کے لئے اُن ملکوں میں پیدا ہو رہا ہے وہ اُن کا کام ہے۔اور ہم لوگ اُس فضا اور اُس اثر کا یہاں بیٹھے ہوئے اندازہ نہیں لگا سکتے۔وہ تو وہیں کے لوگ جانتے ہیں۔میں مثال کے طور پر دوستوں کے سامنے ایک انگریز کی رائے بیان کرتا ہوں کہ ہماری تبلیغ کے کیسے شاندار نتائج نکل رہے ہیں۔بعض انگریزوں نے مغربی افریقہ کا دورہ کیا کہ ان علاقوں میں عیسائیت کی تبلیغ کیسی ہو رہی ہے۔اس کے نتیجہ میں ایک انگریز مبقر اپنے دورے کا ذکر ,, کرتے ہوئے لکھتا ہے:۔پورٹ لوکوہ میں انگریزی چرچ کے پیرو بہت کم ہیں۔حالانکہ یہ چرچ اس علاقہ میں بیسیوں سال سے کام کر رہا ہے۔اور امریکن مشن نے بھی لوگوں کو عیسائی بنانے کی بے حد کوشش کی ہے مگر جب ہم اس مشن کا معائنہ کرنے کے لئے گئے تو ہم نے دیکھا کہ یہ مشن اپنا کاروبار بند کر رہا تھا۔جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے کام کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔اے ایم ای مشن کی ایک چھوٹی سی شاخ بھی وہاں موجود ہے۔اسی طرح انگریزی مشن اور اس کا ایک متحدہ سکول بھی ہے۔لیکن عملاً پورٹ لوکوہ کے تمام طالب علم نیو ایڈ منسٹریشن سکول واقعہ اولڈ پورٹ لوکوہ میں اس کثرت سے چلے گئے ہیں کہ اُن کا وہاں سمانا مشکل ہو گیا ہے۔چونکہ لوگوں کا رجحان اسلام کی طرف ہے اس لئے لوگ ایسے سکولوں سے نفرت کرتے ہیں جن کے ناموں میں عیسائیت کا نشان پایا جاتا ہو۔اور نیو ایڈ منسٹریشن سکول کو پسند کرتے ہیں جہاں ان کو عربی پڑھائی جاتی ہے۔جنگل، دلدل اور دریا گویا سب نے سازش کی ہوئی ہے کہ لوگوں کو تو تہمات میں مصروف رکھیں کیونکہ ان کا پس منظر ہی قدامت پسندانہ ہے جس کا انحصار بیشمار دیوتاؤں کی پوجا پر ہے۔جب تک جنگل اور جھاڑیاں صاف نہ ہو جائیں اور دلدلوں میں کھیتی باڑی نہ ہونے لگے اور تعلیم اور تمدن اور اقتصادی حالت ترقی نہ کر جائے اُس وقت تک صرف تو ہمات کو بُرا بھلا کہنے سے عیسائیت