خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 157

خطبات محمود 157 سال 1947ء ہو گیا تو ہم نے ایک دوست کو گندم دی کہ جلدی پسوا کر لے آؤ۔تین دن کے بعد جب ایک آدمی اُن کی طرف بھجوایا گیا کہ ابھی تک آٹا نہیں پہنچا تو انہوں نے جواب دیا کہ ابھی میں غور کر رہا ہوں کہ کس جگہ پسواؤں۔اس قسم کا غور وفکر اچھا نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔جس وقت میں نے یہ تحریک کی تھی ساتھ ہی میں نے یہ بھی کہا تھا کہ ان قربانیوں کا بوجھ اپنے نفس پر ڈالنا چاہئیے اور دوسرے چندوں پر اس کا اثر نہیں پڑنا چاہیئے۔کیونکہ یہ تو ایک وقتی اور ہنگامی چیز ہے۔اس کی وجہ سے ہمارے مستقل کاموں میں رکاوٹ نہیں پڑنی چاہیئے۔ان مستقل کاموں میں سے ایک تبلیغ ہے جو کہ ہمارے سب کاموں سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ہم یہ کبھی پسند نہیں کریں گے کہ ہمارا تبلیغ کا کام سست ہو جائے۔ہمارے بیسیوں مبلغ اس وقت غیر ممالک میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے عظیم الشان کام کر رہے ہیں۔اگر اس ہنگامی چندے کا اثر تحریک جدید کے چندوں پر پڑے تو ہمیں بیرونی مشنوں کے چلانے میں بہت دقتیں پیش آئیں گی۔اس لئے یہ ہنگامی چندے اپنی جیب سے دو، خدا تعالیٰ کی جیب سے نہ دو۔مومن کا قول اور عمل برابر ہونا چاہیئے۔غیر مومن جو کہتا ہے ضروری نہیں کہ اُسے پورا بھی کرے۔لیکن مومن جو کچھ وعدہ کرتا ہے اُسے سنجیدگی کے ساتھ سو فیصدی پورا کرتا ہے۔اور ہمارا یہ تجربہ ہے کہ ہمارے تحریک جدید کے وعدے اکثر سو فیصدی پورے ہوتے ہیں۔بلکہ بعض لوگ دورانِ سال میں اپنے وعدے بڑھا دیتے ہیں اور ہمارے پچھلے گیارہ سالوں میں وعدوں سے زیادہ وصولی ہوئی ہے۔یہ مثال دنیا کی دوسری جماعتوں میں نہیں ملتی۔پس ہماری جماعت کے وعدے تو پکے ہوتے ہیں صرف توجہ دلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔پس میں ایک دفعہ پھر مردوں اور عورتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنے وعدے مرکز میں بھجوائیں اور جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں یہ وعدے چھ ماہ کے اندرا دا ہو جانے چاہئیں۔چھ ماہ کے لئے اپنے نفسوں پر بوجھ ڈال لو اور ایسے طور پر ادائیگی کی کوشش کرو کہ دوسرے چندوں پر اس چندے کا اثر نہ پڑے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کے بچے اور عورتیں بھی تھی مردوں سے اخلاص میں کم نہیں۔پس میں اس موقع پر عورتوں اور بچوں کو بھی دوبارہ مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ عورتیں ان ایام میں اپنے خاوندوں سے کم سے کم مطالبات کریں اور ہے انہیں اس قابل بنا ئیں کہ وہ جلد سے جلد اپنے وعدے پورے کر سکیں۔اور بیویوں کے مطالبات