خطبات محمود (جلد 28) — Page 149
خطبات محمود 149 سال 1947ء سیالکوٹ کی جماعت سے ایک کو تا ہی ہوئی۔ناظر بیت المال نے اُس پر گرفت کی تو بجائے بیدار ہونے کے انہوں نے غلط رویہ اختیار کیا۔یہ کوتاہی ان سے سہواً ہو گئی ورنہ میں سمجھتا ہوں کہ سیالکوٹ کی جماعت بہت مخلص جماعت ہے اور اس کے متعلق بعض میری خواہیں ہیں جن معلوم ہوتا ہے کہ سیالکوٹ کی جماعت اسلام کی خدمت میں ایک دفعہ پھر نمایاں حصہ لے گی۔انہوں نے مجھے سندھ میں اس بارہ میں ایک خط لکھا کہ معاملہ اس اِس طرح ہے جس سے بجائے انکی بریت ثابت ہونے کے وہ ملزم ہی ثابت ہوئے تھے۔لیکن اب جو اُ نکی طرف سے رپورٹ آئی ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کوتاہی کا کفارہ کر دیا ہے۔اسی طرح بعض اور جماعتوں سے جو رپورٹیں آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعتیں بیداری سے کام کر رہی ہیں۔قادیان میں عورتیں خصوصاً بہت اچھا کام کر رہی ہیں مرد بھی کام میں لگے ہوئے ہیں۔لیکن مردوں کی طرف سے مجھے ابھی تک کوئی رپورٹ نہیں ملی۔لیکن چونکہ میری بیوی لجنہ اماءاللہ کی سیکرٹری ہیں اس لئے اُن کو میرے کان میں بات ڈالنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔لیکن اس کے مقابلہ میں بعض بڑی جماعتوں کا کام غیر تسلی بخش ہے۔مثلاً لا ہور کی جماعت کی ہی جو رپورٹ پہنچی ہے اس میں لاہور کی جماعت کی جائیدادوں کا سواں حصہ بھی درج نہیں۔اسی طرح آمد کی جور پورٹ ہے وہ دسویں حصہ کی بھی نہیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں لاہور کی جماعت اپنی قربانی کے معیار کو بلند کرنے کی کوشش کرے گی۔اور میرا خیال ہے کہ یہ رپورٹ نامکمل ہو گی۔لاہور کی جماعت کے امیر شیخ بشیر احمد صاحب ہیں۔اور اس شوری کے موقع پر اگر کسی نے حفاظت مرکز کے سوال پر جماعت کی صحیح طور پر نمائندگی کی تھی تو وہ شیخ صاحب ہی تھے۔اس لئے مجھے یقین ہے کہ لاہور کی جماعت قربانی کا صحیح نمونہ پیش کرے گی۔حقیقت یہ ہے کہ یہ تو بہت ہی سستی قربانی ہے آئندہ بہت بڑی قربانیاں آنیوالی ہیں تم اُن کے لئے تیاری کرو۔ہماری لاکھوں کی جماعت ہے اگر جماعت اپنے فرض کو سمجھے تو چندہ کی رقم کروڑوں سے نیچے نہیں ہو سکتی۔خواہ تم اس رقم کو کتنا ہی چھوٹا کرو پھر بھی کروڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔پس میں پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ تم تبھی اپنے آپ کو سچے عاشق کی حیثیت میں پیش کر سکتے ہو جب کہ سچے عاشقوں والی قربانیاں کر کے دکھاؤ۔عاشق بھی دوستم کے ہوتے ہیں۔ایک اندھے عاشق ہوتے ہیں اور ایک سجا کھے عاشق