خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 150

خطبات محمود 150 سال 1947ء ہوتے ہیں۔مومن سجا کھے عاشق ہوتے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ اندھے عاشق اور بینا عاشق برابر نہیں ہوتے۔درحقیقت کا فر بھی تو عاشق ہی ہوتے ہیں لیکن وہ اندھے عاشق ہوتے ہیں۔ابو جہل کو کیا مصیبت پڑی تھی کہ اپنے وطن سے دور مدینہ پر جا کر حملہ کرتا۔وہ لات و عزمی کا عشق ہی تھا جو اسے اپنے وطن سے دور لے گیا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی عشق تھا جو ہے آپ کو مکہ سے مدینہ لے گیا۔لیکن آپ کا عشق پینا عشق تھا اور مکہ کے لوگوں کا اپنے بتوں سے اندھا عشق تھا۔ورنہ مسلمانوں نے اُن کی جائیدادوں پر تو قبضہ نہیں کیا تھا کہ کفار اُن کے جانی دشمن بن گئے۔وہ لات و منات اور غزلی کا عشق ہی تھا جو اُن کو دشمن پر برانگیختہ کرتا تھا۔پس دونوں طرف ہی عشق تھا۔لیکن ایک طرف اندھا عشق تھا اور دوسری طرف پینا عشق تھا۔دنیا دار سجا کھے عاشق بھی اپنا نام دنیا میں چھوڑ جاتے ہیں اور دنیا دیر تک اُن کو یاد کرتی رہتی ہے۔گوان مالی واقعات کی فرضی شکل بنادی جاتی ہے۔شیریں اور فرہاد کے عشق کا واقعہ مشہور ہے اور صدیوں سے مشہور چلا آتا ہے۔فرہاد کے علاوہ بھی ہزاروں ہزار عاشق دنیا میں گزرے ہیں لیکن اُن کو کوئی ہے یا دنہیں کرتا۔یہاں قادیان میں ہی ایک چوہڑا عاشق بنا پھرتا تھا اور گلیوں میں چلتے چلتے کہا کرتا تہی تھا کہ میرا محبوب مجھے ملا دے۔لیکن آج کون اُسے یاد کرتا ہے اور کتنے لوگوں نے اُس کے عشق کی کہانیاں بیان کی ہیں۔لیکن فرہاد بینا عاشق تھا اور وہ عشق کی ذمہ داریوں کو سمجھتا تھا۔جب اُس کے سامنے یہ شرط پیش کی گئی کہ شیریں تمہیں تب مل سکتی ہے جب تم پہاڑ کی دوسری جانب جو دریا بہتا ہے اُس میں سے نہر کاٹ کر لے آؤ۔تو وہ تیشہ لے کر اکیلا ہی لگا رہا اور نہر کاٹ کر لے آیا۔اس نے ثابت کر دیا کہ عاشق نکما اور سُست نہیں ہوتا اور قربانی کرنے سے وہ جی نہیں چرا تا۔اُس کا عشق مادی ہے عشق تھا مگر باوجود مادی عشق ہونے کے اس کی یاد آج تک لوگوں کے دلوں میں موجود ہے کیونکہ وہ بینا عاشق تھا۔یہی حال مومن کا ہوتا ہے۔اُس کا عشق آنکھیں کھلے ہوئے اور جانتے بوجھتے ہوئے ہوتا ہے۔اور وہ یہ جانتے ہوئے عشق کا دعویٰ کرتا ہے کہ عاشق مارے جانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔اور عاشق اس کوشش میں رہتا ہے کہ محبوب کوئی چیز مانگے تو میں حاضر کروں۔دنیا کے لوگوں کو یہ شکوہ ہوتا ہے کہ اتنا کیوں مانگا گیا؟ اور اس کو شکوہ یہ ہوتا ہے کہ سارا کیوں نہیں مانگا گیا؟ پس جماعت کو چاہیئے کہ عشق کے معیار کو حقیقی طور پر بلند کرے۔حقیقی عاشق عامل ہوتا ہے۔