خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 3

خطبات محمود 3 سال 1947ء ہوں اور میرالڑ کا بھی آپ کی خدمت میں لگا ہوا ہے۔میں یہ چاہتی ہوں کہ میرے لڑکے کی اس لڑکی سے شادی ہو جائے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ لڑکی تو احمدی ہے۔مطلب یہ کہ احمدی لڑکی کا غیر احمدی لڑکے سے بیاہ نہیں ہوسکتا۔وہ عورت ہیں سال سے احمدیوں کے گھروں میں کام کرتی آ رہی تھی۔لیکن اُسے یہ بھی علم نہ تھا کہ احمدی کسے کہتے ہیں اور غیر احمدی کسے کہتے ہی ہیں۔حضرت خلیفہ اول کا جواب سن کر کہنے لگی۔ایہہ کیہڑی گل اے تے مُنڈا وی احمد ا ہو جائے گا۔یعنی یہ کونسی ایسی بڑی بات ہے لڑکا بھی احمد ابن جائے گا۔اُس نے خیال کیا کہ شاید حضرت خلیفہ اول کو لیکر نام پسند نہیں۔اس لئے اُس نے کہا اگر لیکر نام اچھا نہیں تو لڑکے کا نام بھی احمدا رکھ لیں گے۔اب دیکھو! وہ بیس سال سے احمدیوں کے درمیان رہتی آ رہی تھی لیکن اُسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ احمدی اور غیر احمدی کسے کہتے ہیں۔اسی طرح ایک خادمہ ہمارے ہاں کام کرتی تھی۔ایک دن کسی نے بتایا کہ وہ کہتی ہے کہ احمدی نمازیں نہیں پڑھتے۔میں نے کہا کہ اُسے نظر نہیں آتا ہمارے گھر میں روزانہ نمازیں پڑھی جاتی ہیں۔تو مجھے بتایا گیا کہ اس کا خیال ہے کہ یہ نمازیں مجھے دکھانے کے لئے پڑھی جاتی ہیں۔ور نہ اصل میں احمدی لوگ نمازیں نہیں پڑھتے۔گویا ہمارے گھر کے تمام افراد اس ایک خادمہ کو جی دکھانے کے لئے نمازیں پڑھتے تھے۔وہ عورت کوئی مولوی نہ تھی نہ ہی اُسے کوئی دینی علم تھا بلکہ سنی سنائی باتوں کی وجہ سے اس کے دل میں ایک مخالف جذبہ پیدا ہو گیا تھا۔اسی طرح قادیانی کے ارد گرد کے لوگوں کے متعلق یہ سمجھنا کہ چونکہ وہ ہمارے قریب رہتے ہیں اس لئے وہ ہماری باتوں کو سمجھتے ہوں گے یہ صحیح نہیں۔بلکہ ان کے قریب ہونے کی وجہ سے ان کے لئے دوسروں کی نسبت زیادہ مشکلات ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جو چیز روزانہ انسان کے سامنے آتی رہے اُس کے متعلق انسان کو جستجو نہیں رہتی۔کئی دفعہ لوگ جب مجھے ملنے کے لئے آتے ہیں تو ساتھ اپنے بچوں کو بھی لاتے ہیں۔اور کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے بچے کو دیکھ کر کہا یہ تو بھینگا ہے اور ماں باپ جن کے پاس وہ دن رات رہتا ہے اُن کو بھی میرے کہنے کی وجہ سے توجہ پیدا ہوئی ہے۔اور انہوں نے کہا کہ ہمیں پہلے کبھی یہ احساس نہیں ہوا۔اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ چونکہ بچہ ہر وقت والدین کے پاس رہتا ہے اس لئے انہیں زیادہ غور کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔