خطبات محمود (جلد 28) — Page 2
خطبات محمود 2 سال 1947ء میں سے ہر ایک نے عرب نہیں دیکھا ، ہم میں سے ہر ایک نے ملکہ نہیں دیکھا ، ہم میں سے ہر ایک نے حج نہیں کیا لیکن ہر مسلمان حج اور مکہ کا قائل ہے۔اور اب ہر انسان یورپ کا قائل ہے۔لیکن ابتدا میں ہر شخص یورپ کا قائل نہ تھا۔بلکہ پہلے پہلے جب یورپین علاقوں کے لوگ مشرقی ممالک میں آئے تو لوگوں نے اُن کو پریاں اور دیو سمجھا۔اور ان علاقوں کو پرستان 1 سمجھا۔یہ لوگ ٹھنڈے ملکوں کے رہنے والے تھے اور ٹھنڈے ملکوں کے لوگ عام طور پر مضبوط ، قد آور اور سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔اس لئے ایشیا کی نچلی بستیوں کے لوگوں نے اُن کو پریاں اور دیو خیال کیا۔ایران اور عراق کے لوگ چونکہ ان کے ملکوں سے آنے جانے کے راستے نہ جانتے تھے اس لئے ان لوگوں کے متعلق وہ یہی سمجھتے کہ یہ کہیں غائب ہو جاتے ہیں۔اور یورپ کی سفید رنگ کی عورتیں جب ان کے ملک میں آتی تھیں تو عراق اور ایران والے انہیں پریاں تصور کرتے تھے۔چونکہ انہیں ان کے علاقوں کا علم نہ تھا اس لئے وہ جرمنی والوں ، فرانس والوں ، اور روس کے لوگوں کا نام پریاں اور دیور کھتے تھے۔جب ان علاقوں کا لوگوں کو علم ہو گیا تو ان دیووں میں سے کچھ انگریز بن گئے ، کچھ فرانسیسی بن گئے ، کچھ جرمن بن گئے ، کچھ روسی بن گئے۔جب تک ان علاقوں کا علم نہ تھا اُس وقت تک ان کا قائل کرنا مشکل تھا۔پس غیر مانوس با تیں آہستہ آہستہ ہی ذہنوں میں داخل ہوتی ہیں۔اس لئے یہ نہیں سمجھنا چاہئیے کہ جو لوگ قادیان کے ارد گرد رہتے ہیں اُن کو ہماری باتوں کے متعلق پورے طور پر علم ہو چکا ہے۔ہم سے باہر رہنے والے تو الگ رہے کئی لوگ باوجود ہمارے درمیان رہنے کے پھر بھی ہماری باتوں کے متعلق بہت کم علم رکھتے ہیں۔وہ ہمارے محلوں میں رہتے ہوئے ایسی ایسی باتیں سوچتے ہیں کہ حیرت آتی ہے۔ایک عورت ہمارے گھروں میں ملازمہ تھی۔اُس کے لڑکے کا نام لیکر تھا۔وہ پہلے احمدی نہ تھا آخری عمر میں احمدی ہو گیا تھا۔وہ ہنگر خانہ میں کام کیا کرتا تھا۔وہ عورت مختلف احمدی گھروں میں کام کرتی رہی مگر زیادہ تر حضرت خلیفہ اول کے گھر میں کام کرتی تھی۔حضرت خلیفہ اول کے گھر میں ایک یتیم لڑکی تھی جس کا نام احمدہ تھا۔اُس عورت نے یہ سوچا کہ میں اپنے لڑکے کے لئے حضرت خلیفہ اول سے اس لڑکی کا رشتہ مانگوں۔چنانچہ ایک دن کام کاج سے فارغ ہو کر وہ حضرت خلیفہ اول کے پاس آکر بیٹھ گئی اور کہنے لگی کہ میں اتنی مدت سے آپ کے پاس کام کر رہی