خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 4

خطبات محمود 4 سال 1947ء یہ ایک مسلم امر ہے کہ جو چیز ہر وقت انسان کے سامنے رہے اس کے متعلق جستجو کا خیال دل سے نکل جاتا ہے۔دور کے لوگوں کے لئے احمدیت ایک اجنبی چیز ہے۔جب احمدیت کا ذکر آتا ہے تو لوگ پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ احمدی کون ہوتے ہیں؟ دوسرے کہتے ہیں کہ جنہیں لوگ مرزائی کہتے ہیں۔پھر وہ پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ مرزائی کون ہوتے ہیں؟ تو وہ لوگ کہتے ہیں جنہیں قادیانی کہتے ہیں۔اسی طرح ہر دفعہ جب بھی احمدیت کا ذکر ان کے سامنے آتا ہے تو ان کے دلوں میں نئے نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں اور وہ پوچھنا شروع کر دیتے ہیں۔لیکن چونکہ یہ لوگ پاس رہتے ہیں اس لئے جب ان کے سامنے احمدی یا مرزائی کا لفظ آتا ہے تو انہیں تجسس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔اور ان کے کان اس لفظ کے بار بار سننے کے عادی ہو چکے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہے کہ احمدی کون ہوتے ہیں۔گویا با وجود نہ جاننے کے وہ جاننے کے دعویدار ہوتے ہیں اس لئے یہ لوگ دوسروں کی نسبت ہدایت سے زیادہ محروم ہوتے ہیں۔ان لوگوں کی نسبت گجرات جہلم اور گوجرانوالہ کے لوگ احمدیت کے متعلق زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ان کے لئے احمدیت نئی چیز ہے۔اس لئے ہمیں ارد گرد کے علاقوں میں تبلیغ کے لئے بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔لیکن تبلیغ کسی اصول کے ماتحت ہونی چاہیے۔کام کا موجودہ طریق کسی اصول کے ماتحت نہیں۔اگر کام کسی اصول کے ماتحت ہوتا تو اس سے کہیں زیادہ کامیابی کے آثار ہوتے۔میں یہ نہیں کہتا کہ اتنے عرصے میں کامیابی ضروری ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس میں تین چار سال لگ جائیں گے۔لیکن کم از کم کامیابی کے آثار تو ظاہر ہونے کی چاہئیں۔موجودہ صورت میں تو مجھے وہ آثار بھی نظر نہیں آتے۔مثلاً میں زمیندار ہوں۔میں نے آموں کے باغ لگوائے ہیں۔میں نے اپنے باپ دادا کے لگائے ہوئے باغ دیکھے ہیں۔میں یہ جانتا ہوں کہ چھ سات سال کے بعد آم کا درخت پھل لاتا ہے۔اگر میں آم کا درخت لگتے ہی یہ فیصلہ کروں کہ اس نے ابھی تک پھل کیوں نہیں دیا۔تو یہ بات درست نہیں ہوگی۔لیکن اگر میں دیکھوں کہ ایک شخص مکان کی چھت پر آم کا پودا لگا رہا ہے اور میں جانتا ہوں کہ مکان کی چھت پر آم کا پودا پھل نہیں لائے گا تو میں اُسے بتا سکتا ہوں کہ مکانوں کی چھتوں پر آم کے درخت نہیں لگ سکتے اور تمہارا طریق آم لگانے کا درست نہیں۔اسی طرح میں یہ جانتا ہوں کہ اتنی جلدی