خطبات محمود (جلد 27) — Page 637
*1946 637 خطبات محمود کر سکتے ہو کہ تمہارے ہمسائے کے گھر میں آگ لگی ہو تو تمہارا گھر اس سے محفوظ رہ سکے گا؟ ہر گز نہیں۔اگر تم اپنے ہمسائے کے گھر میں لگی ہوئی آگ نہ بجھاؤ گے تو تھوڑی دیر نہیں گزرے گی کہ تمہارا اپنا گھر بھی نذر آتش ہو جائے گا۔اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ جب اس قسم کے واقعات پیش آئیں سب کے سب مظلوم اکٹھے ہو جائیں اور آپس کے تنازعات اور مناقشات کو بالائے طاق رکھ دیں۔جب دشمن دیکھے گا کہ سارے مظلوم اکٹھے اور یک جان ہو گئے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کو تیار بیٹھے ہیں تو وہ تم میں سے کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا اور کبھی تم پر حملہ آور ہونے کی جرات نہ کر سکے گا۔جب دشمن دیکھے کہ میں نے ایک کے منہ پر تھپڑ مارا تھا مگر اس سے میں نے ہزاروں اور لاکھوں کو غصہ دلایا ہے اور کروڑوں کی آنکھوں میں خون اتر آیا ہے تو وہ سہم جاتا ہے اور دوسری دفعہ کسی پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتا۔لیکن جب دشمن یہ دیکھے کہ میں نے ہزاروں کو مارا اور پیٹا ہے مگر دوسروں کے اندر اپنے ساتھی کے لئے جذبہ ہمدردی پیدا نہیں ہوا۔تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ سارے بیوقوف ہیں اور ان کو تباہ کر دینا ذرا بھی مشکل کام نہیں۔اس وقت بہار کے مظلومین کے ساتھ ہمدردی کرنا گویا اپنے ساتھ ہمدردی کرنا ہے۔مظلوم کی مدد اس کو مظالم سے بچاتی ہے مگر ساتھ ہی ظالم کے ہاتھ کو بھی روکتی ہے۔ہماری جماعت پر خد اتعالیٰ کے ساتھ اخلاص کا تعلق رکھنے کے علاوہ یہ بھی فرض ہے کہ شفقت عَلى خَلْقِ اللہ کا نمونہ دکھائے۔یہ ایک ایسا فرض ہے جو ہر مومن کے لئے ادا کر ناضروری ہے۔اور جس طرح نماز اور روزہ وغیر ہ اپنی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں اسی طرح یہ فرض بھی نہایت اہم ہے۔پس ہماری جماعت میں سے جو ڈاکٹر فارغ ہوں وہ جلد از جلد اپنے نام پیش کریں تا کہ ان کو وفد کی صورت میں مصیبت زدگان کی امداد کے لئے بجھوایا جا سکے۔وہاں پندرہ یا بیس دن صرف ہوں گے۔اور اس طرح تھوڑے دنوں میں ہی وہ کام کر کے واپس آسکتے ہیں۔اگر کسی ڈاکٹر کو جلسہ سالانہ میں شمولیت کا خیال ہو تو جلسہ سالانہ میں ابھی پورے ہیں دن باقی ہیں اور یہ کافی وقفہ ہے۔وہ اپنے کام کو سر انجام دے کر جلسہ سالانہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔لیکن اگر وہ جلسہ میں نہ بھی آسکیں تو انہیں اُن کے اس کام کا اُتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ جلسہ سالانہ میں شامل ہو کر مل سکتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ جلسہ سالانہ