خطبات محمود (جلد 27) — Page 636
*1946 636 خطبات محمود لڑکے کو الگ لے گیا۔اور کہا شاہ صاحب! آپ تو آلِ رسول ہیں اور ہمارے پیر و بزرگ ہیں۔مگر اس مولوی کے لڑکے کو کیا حق پہنچتا ہے۔ہم آپ کے تو ہر طرح غلام ہیں مگر اس کا حق نہ تھا کہ اس طرح باغ میں گھس آتا۔بھلا وہ آپ کی شان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔کجا سید ! کجا امتی ! سید زادے نے جب اپنی تعریف سنی تو بہت خوش ہوا اور کہا بالکل ٹھیک ہے۔بھلا اس کا کیا حق ہے کہ آپ کے باغ میں بلا اجازت داخل ہو۔زمیندار نے کہا۔اگر ٹھیک ہے تو میری حق رسی کرو۔غرض ان دونوں نے مل کر مولوی کے لڑکے کو بھی درخت سے باندھ دیا اور خوب پیٹا۔زمیندار اُس کو پیٹتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا۔بے شرم اتجھے ذرا شرم نہ آئی کہ تمہارا باپ دوسرے لوگوں کو مسئلے بتا بتا کر ایسے کاموں سے منع کرتا ہے اور تو بلا اجازت پھل کھانے کے لئے میرے باغ میں گھس آیا۔اب زمیندار نے دل میں سوچا کہ دو جوان تو باندھے جاچکے ہیں۔اب یہ اکیلا بے چارا کیا کر سکتا ہے۔اس نے عامی اور مولوی کے لڑکے کو باندھنے کے بعد سید کو بھی گردن سے پکڑ لیا۔کہا خبیث ! کیا آلِ رسول کے اس قسم کے افعال ہوتے ہیں۔اُس کو بھی اُس نے خوب مارا۔یه در حقیقت ایک مثال ہے اس امر کی کہ جب تمہارے کسی ہمسائے پر مصیبت آجائے تو تم یہ نہ سمجھو کہ یہ مصیبت صرف ہمسائے پر ہی ہے اور تم پر ابھی نہیں آئی۔آج جو مصیبت تمہارے ہمسائے پر آئی ہے وہ کل تم پر بھی آسکتی ہے۔یہ مثال جو میں نے بیان کی ہے اس میں یہ سبق ہے کہ ایسے وقت میں سب مصیبت زدوں کو اختلافات اور تنازعات چھوڑ کر اکٹھے ہو جانا چاہئے۔ورنہ دشمن تمہیں ایک ایک کر کے نہایت آسانی کے ساتھ تباہ کر دے گا۔اِس مثال میں زمیندار کا اُن تینوں کو مارنا ظلم تو نہ تھا۔بہر حال مظلوم کے مقابلہ کا سوال تھا اور اس نے یہ کام اپنی ہوشیاری اور عقلمندانہ تجویز سے سر انجام دے لیا۔مگر کیا وجہ ہے کہ سارے مظلوم اکٹھے نہ ہو جائیں۔اگر کوئی ایک قوم مصیبت میں مبتلا ہو تو دوسری کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ یہ مصیبت صرف اُسی پر ہے اور ہم اس سے محفوظ ہیں۔بلکہ وہ سمجھے کہ آج نہیں تو کل یہ مصیبت ہم پر بھی ضرور آئے گی اور ایسے موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ سب کے دلوں میں ہمدردی کا جذبہ ابھر آنا چاہئے۔اور ہر ایک کو اپنی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہئے۔کیا تم خیال