خطبات محمود (جلد 27) — Page 623
*1946 623 خطبات محمود اور بہار میں فسادات 22 اکتوبر کو شروع ہوئے۔اگر کوئی کہے کہ خواب سنایا تو 25 کو گیا ہے تو اِس کا جواب یہ ہے کہ 28 اکتوبر سے پہلے بہار سے باہر کسی کو ان فسادات کی خبر نہیں ہوئی نیز جس علاقہ میں سارہ بیگم کے بھائی بہن رہتے تھے وہاں تو فسادات ہوئے ہی 28 اور 29 کو ہیں۔پس خواب ان فسادات کے شروع ہونے سے پانچ چھ دن پہلے آئی اور اس رؤیا کو مجلس میں بیان کرنے کے تین چار روز بعد بہار کے فسادات کی خبر یہاں پہنچی۔اس سے قبل بہار گورنمنٹ اس کو چھپاتی رہی۔گویا اللہ تعالیٰ نے اس ہیبت ناک آفت سے پانچ چھ دن پہلے مجھے اس کے متعلق اطلاع دے دی کہ ایسے حالات رونما ہوں گے۔گو تعبیر کرتے ہوئے مجھے چھوٹے بھائی کے لفظ سے مغالطہ لگا اور میں یہ سمجھا کہ خواب میں دو بھائیوں اور ایک بہن کا جو ذکر ہے شاید اس سے ان کے تین بچے مراد ہوں گے۔مگر اتفاق کی بات ہے کہ لاہور کو جاتے ہوئے میری لڑکی آمَةُ الرّشید نے (جو کہ پروفیسر علی احمد صاحب کے لڑکے میاں عبد الرحیم احمد سے بیاہی ہوئی ہے جو خود بہار کے ہیں) مجھ سے ذکر کیا کہ پروفیسر صاحب کہتے تھے کہ فساداتِ بہار میں ہمارے رشتہ داروں میں سے ایک آدمی کے مرنے کی خبر آئی ہے۔جس کا نام تنجو تھا اور حضور کی رؤیا میں جو مجنہ نام آتا ہے شاید اس سے مراد نجو ہو۔یہ بات سنتے ہی میر اذ ہن اصل تعبیر کی طرف چلا گیا۔میں نے کہا نتجو و جو کچھ نہیں۔بس اب میں اس خواب کی تعبیر سمجھ گیا۔جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں سارہ مرحومہ کے چار بھائیوں میں سے فسادات بہار کے وقت ایک بھائی قادیان میں تھا اور ایک بھائی کلکتہ میں تھا اور سب سے بڑا بھائی اور سب سے چھوٹا بھائی اور بہن فسادات کے دنوں میں بہار میں تھے اور انہیں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔بہار کے گل سترہ ضلعے ہیں۔ان میں سے چار ضلعوں میں فساد ہوا اور تیرہ ضلعوں میں فساد نہیں ہوا۔یہ ہو سکتا تھا کہ وہ بھائی وہاں ہوتے جہاں فساد نہیں ہوا۔چاہے وہ بہار میں ہی ہوتے۔لیکن ان کو ان تکالیف کا سامنانہ کرنا پڑتا۔اور اس وقت یہ خواب ان پر چسپاں نہ ہو سکتی۔لیکن عجیب بات ہے کہ سب سے زیادہ خطرناک فسادات اور خطرناک حملے بھاگلپور، مو نگھیر اور پٹنہ میں ہوئے اور ان فسادات کے وقت سارہ بیگم کے دونوں بھائی بھاگلپور میں تھے اور بہن اور بین ضلع مو نگھیر میں تھیں۔ان دونوں جگہوں پر سخت فسادات ہوئے تھے۔بھاگلپور کی تار تو الفضل میں چھپ چکی ہے۔اور ین کا