خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 624 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 624

*1946 624 خطبات محمود بھی محاصرہ ہوا اور کئی دن وہ لوگ سخت پریشان رہے۔ان دونوں علاقوں میں جانی مالی نقصان کافی ہوا۔کھانے پینے کی بھی بہت تکلیف رہی۔خواب میں کوئی دیکھے کہ اس کے پیٹ میں کیڑے ہیں تو اس کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ اس کا مالی نقصان ہو گا۔ان جگہوں میں سخت فسادات ہوئے اور بہت سا جانی نقصان ہوا۔لیکن جیسا کہ خواب سے ظاہر تھا سارہ بیگم کے بھائیوں اور بہن کو جانی نقصان سے اللہ تعالیٰ نے بچالیا۔صرف مالی نقصان ہوا اور پریشانی ہوئی۔اور ین میں بھی کئی دن تک بلوائیوں نے شہر کا محاصرہ رکھا۔اور ین میں ہی ان کی ہمشیرہ تھیں۔غرض خواب میں سارہ بیگم کے دو بھائیوں اور ایک بہن کی خبر دی گئی تھی کہ ان کو مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کو اپنے ہمسایوں یا ہم وطنوں سے تکلیف پہنچے گی۔لیکن اس میں مالی نقصان ہو گا، جانی نقصان نہیں ہو گا۔یہی حالات وہاں رونما ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے فسادات کے شروع ہونے سے چار پانچ دن پہلے مجھے بتا دیا۔چنانچہ بھاگلپور میں 28 اکتوبر کو فسادات شروع ہوئے اور اورین میں 31 اکتوبر کو ہوئے۔اس لحاظ سے ایک مقام کے متعلق بارہ دن پہلے اور دوسرے مقام کے متعلق چودہ دن پہلے اطلاع دی اور وہ خبر بعینہ پوری ہوئی۔جو لوگ اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کیسی پریشانی اور خطرات کے وہ دن تھے۔چنانچہ ایک تار ساره بیگم مرحومہ کے بھائی اور باپ اختر علی صاحب امیر جماعت بھاگلپور کی طرف سے ان دنوں آئی تھی اور الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔اس تار کا مضمون یہ تھا کہ اس تار کو آپ ایسا ہی سمجھیں جیسے ڈوبتا ہوا جہاز ارد گرد کے جہازوں کو خبر دیتا ہے کہ تم ہماری اس اطلاع کو آخری اطلاع سمجھو۔اگر اس کے بعد تمہیں کوئی اطلاع نہ آئے تو تم سمجھ لینا کہ ہم ڈوب چکے ہیں۔اسی طرح کی ایک تار اور ین سے بھی آئی تھی جہاں سارہ مرحومہ کی بہن محصور تھیں۔یہ تار سید وزارت حسین صاحب نے اپنے لڑکے کو (جو پٹنہ میں ڈاکٹر ہیں) دی تھی کہ اگر ہمیں بروقت مدد نہ پہنچی تو تم سمجھ لینا کہ تمہارے ابا مارے جاچکے ہیں اور وہ تار عزیزم اختر حسین نے میرے پاس بھیج دی۔ان باتوں سے پتہ لگتا ہے کہ کیسے خطرناک حالات وہاں پیدا ہو گئے تھے اور یہ رو یا کس صفائی سے پوری ہوئی ہے۔خواب سے یہ پتہ لگتا تھا کہ دو بھائیوں اور ایک بہن کو کوئی حادثہ پیش آئے گا۔اور پیٹ میں کیڑے ہونے سے یہ مراد تھی کہ اُن کو سخت پریشانی ہو گی،