خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 50

*1946 50 خطبات محمود نظر انداز کر دیتا ہے۔بیسیوں دفعہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے کسی کو کہا کہ فلاں کام کر دو اور کچھ دیر کے بعد اس نے اطلاع بھیجوا دی کہ کام ہو گیا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ نہیں ہوا۔اس سے پوچھا گیا کہ کام کیوں نہیں ہوا ؟ تو اُس نے جواب دیا کہ میں نے تو فلاں کو کہہ دیا تھا۔حالانکہ کہہ دینے کا نام تو ہو گیا نہیں ہوتا۔کہہ دیا تو محض ایک ارادہ ہے اور ارادہ کے لئے ضروری نہیں کہ وہ پورا بھی ہو جائے۔تو لوگ محض ارادہ کا نام وقوع سمجھ لیتے ہیں اور بعض دفعہ اس ارادہ کو پورا کرنے کے لئے ایک فعل کرتے اور سمجھ لیتے ہیں کہ انجام کے راستہ میں کوئی روک باقی نہیں رہی اس شخص کی طرح جو کسی کو ایک کام کہہ کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ کام ہو گیا ہے اور جب بعد میں کام نہ ہونے پر پوچھا جائے تو کہہ دیتا ہے کہ میں نے تو اُسے کام کرنے کے لئے کہہ دیا تھا لیکن اُس سے سستی ہوئی۔ایسی حالت میں جب سستی کا امکان ہمیشہ موجود ہوتا ہے تو کسی مومن کو حق کیا ہے کہ وہ خدائی اپنے ہاتھ میں لے لے اور کہہ دے کہ فلاں بات بالکل یقینی ہے۔شاید میری زندگی کا ایک بہت بڑا عقدہ جماعت کے لوگوں کو یہی سمجھانا رہا ہے کہ اس قسم کا اعتماد انسانی افعال پر نہیں کرنا چاہئے اور یہ کہ خدا تعالیٰ کے خانہ کو ہمیشہ خالی رکھنا چاہئے۔اور اس کی تقدیر پر ایمان رکھنا چاہئے لیکن ابھی بہت کم لوگ ایسے ہیں جن میں یہ مادہ نظر آتا ہے کہ اپنی ساری تدبیروں کے باوجود وہ یہ سمجھیں کہ ہماری تدبیریں خدا تعالیٰ کی تقدیر سے ٹکرا کر بعض دفعہ پاش پاش ہو جایا کرتی ہیں۔ہماری قومی زندگی کا موجودہ دور بھی ایک بہت بڑی اہمیت رکھنے والا ہے کیونکہ تحریک جدید کے ذریعہ ہم نے دنیا بھر کی تبلیغ کے لئے ایک نقشہ بنایا ہے۔بیسیوں نوجوان اسی غرض کے لئے تیار کئے ہیں کہ وہ بیرونی ممالک میں جائیں اور ایسے رنگ میں تبلیغ کریں کہ اشاعت اسلام بھی ہو، اُن کے گزارے کی صورت بھی نکل آئے اور علمی طور پر بھی ان ممالک پر احمدیت کا رُعب چھا جائے۔لیکن ہمارا یہ دور اب تک صرف تمہیدی دور گزرا ہے۔جماعت نے چندے دیئے ، نوجوانوں نے زندگیاں وقف کیں، پڑھنے والوں نے پڑھا، لٹریچر لکھنے والوں نے کچھ لٹریچر تیار کیا اور بعض نوجوانوں کو غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے روانہ کیا گیا۔لیکن اس کے بعد ابھی یہ مرحلہ باقی ہے کہ باہر جانے والے ایسے طور پر کام کرنے میں